10.11.2014 Views

معاشرہ کے اندر خوشتر ا نسان اور بہتر ماں

معاشرہ کے اندر خوشتر ا نسان اور بہتر ماں

معاشرہ کے اندر خوشتر ا نسان اور بہتر ماں

SHOW MORE
SHOW LESS

You also want an ePaper? Increase the reach of your titles

YUMPU automatically turns print PDFs into web optimized ePapers that Google loves.

دو تہذیبوں کے درمیان<br />

مائیں اور بیٹیاں<br />

متحرک رہیں<br />

بہت سی ممکنات کو<br />

استعمال کریں<br />

بیٹیوں سے ڈائیالگ<br />

دو جاب کرنے جیسا لگتا تھا<br />

معاشرہ کے اندر<br />

خوشتر ا نسان<br />

اور بہتر ماں<br />

کل وقتی رول ماڈل<br />

باہمی بات چیت اہم ہے<br />

علم کی شاہراہ<br />

الئبریری نے مجھے پار لگایا<br />

مونا کی دنیا<br />

ڈراؤنے خواب اور معجزے


ڈنمارک<br />

میںمائیں اور بیٹیاں<br />

فہرست<br />

6<br />

12<br />

6<br />

مائیں اور بیٹیاں<br />

- دو تہذیبوں کے درمیان<br />

ناشر<br />

وزارتِ‏ اِٹیگریشن<br />

Holbergsgade 6<br />

København K 1057<br />

33 92 33 80<br />

inm@inm.dk<br />

www.nyidanmark.dk<br />

ISBN<br />

978-87-92522-02-3<br />

الیکٹرانک آئی ایس بی این<br />

978-87-92522-03-0<br />

تزہین وترویج<br />

Als Research ApS<br />

Umloud Untd<br />

گرافک اور ڈیزائین<br />

Umloud Untd<br />

طباعت<br />

Stibo Graphic<br />

سرورق تصویر<br />

Tom Lindboe, Stilleben<br />

Model Saima Shahzad<br />

ترجمہ<br />

پرویز اختر<br />

Tolk og Retsbistand<br />

ڈینش معاشرہ میںقطع نظر اپنے پسِ‏ منظر مائیں ایک بڑا کردار ادا کرتی ہیں۔یہ ایک طے شدہ حقیقت ہے کہ<br />

کنبے میں ماں بچوں کی تربیت اور پرورش میں حصہ لیتی ہے اورانہیں پیار دیتی ہے۔اس لئے وہ ایک اہم رول ماڈل<br />

ہے ، جو بچوں کو یہ بتاتی ہے کہ معاشرہ میںکامیابی سے گذر بسر کیسے کی جائے۔<br />

کنبے سے باہر معاشرہ اس بات کو اچھی طرح استعمال کرتا ہے کہ مائیںمتحرک شہری ہوں اوراسی طرح وہ کام<br />

کی جگہ،‏ ثقافتی امور اور سیاسی زندگی میںمتحرک ہوں۔<br />

اس طرح مائیں کنبہ اورمعاشرہ کے مابین پل کا کام سرانجام دیتی ہیں۔<br />

مائیں خصوصی طور پہ بیٹیوں کے لئے بڑی اہم ہوتی ہیں۔ماڈرن معاشرہ میں کامیاب زندگی گذارنے کے لئے اپنے<br />

پہ اعتماد کی ضرورت ہوتی ہے ۔ایک نوعمر لڑکی کو یہ اعتماد اپنی ماں کے ذریعہ ملتا ہے جب وہ اپنی بیٹی کے<br />

سکول جانے ‏،اسکی تعلیم اور بر سر روزگار ہونے میں امداد کرتی ہے-‏ اور اسکی مختلف فارغ اوقاتی مشاغل میں<br />

عملی شمولیت اورنوعمروں کی زندگی کے سلسلہ میں مددکرے۔<br />

ہمیشہ یہ جاننا آسان نہیں ہوتاکہ ایک ماں بیٹی کی کیسے مدد کرے۔خاص طور یہ بات اور بھی ٹھیک ہوتی<br />

ہے کہ جب آپ خود ڈنمارک میں نہ پلی بڑھی ہوں۔ ہو سکتا ہے کہ اپنی نوعمر بچی کے بارے میں کوئی بات<br />

آپ کو پسندنہ ہویا سمجھ نہ آتی ہو۔اس لئے دوسری ماؤں سے سنا جائے کہ انہوں نے ان حاالت میں کیا کیا،‏ ہو<br />

سکتا ہے اس سے کچھ مدد مل جائے ۔اس سے آپ کو تحریک مل سکتی ہے معاملہ کو حل کرنے کے ممکنہ<br />

طریقے سامنے آ سکتے ہیں۔<br />

اس رسالہ میں پانچ رول ماڈل عورتوں سے آپ کی مالقات ہوگی۔ان کا پسِ‏ منظرجداگانہ ہے یعنی فلسطینی،‏<br />

مراکشی،صومالی،‏ پاکستانی،‏ کردی اور ترکی ہے۔ اور یہ سب بیٹیوں کی مائیں ہیں،ان کو ماں اور عورت ہونے<br />

کے ناطے اچھے اوربرے تجربات کا سامنا کرنا پڑاہے۔ آپ کی مالقات دو نوجوان عورتوںسے ہو گی،‏ جو یہ بیٹی<br />

کے نقطہ نگاہ سے اپنے تجربات بیان کریں گی کہ غیر ملکی پسِ‏ منظر کے ساتھ ڈنمارک میں انہیں کیا تجربات<br />

ہوئے۔<br />

رسالہ سے لطف اندوز ہوں!‏<br />

وزارت برائے مہاجرین،‏ غیرملکی اوراِنٹگریشن<br />

4<br />

Ministeriet for Flygtninge, Indvandrere og Integration<br />

‏معاشرہ کے اندر۔<br />

خوشتر ا نسان ۔اور بہتر ماں<br />

صائمہ شہزادیہ سمجھتی ہیں کہ گھر میں رہنے سے<br />

وہ تنہائی کا شکارتھیں ، اس نے ان کے مزاج اور خود<br />

اعتمادی کو متاثر کیا ہے۔اس لئے انہوں نے بہت<br />

سارے کورسز پڑھے اور آج وہ تیراکی سکھاتی ہیں،‏<br />

صحت کے بار ے میں معلومات بہم پہنچاتی ہیں۔<br />

6<br />

بیٹیوں سے ڈائیالگ<br />

دو جاب کرنے جیسا لگتا تھا<br />

عمران اور لینا ایسے کنبوں کی بیٹیاں ہیں جو اپنا وطن<br />

چھوڑ کر ڈنمارک آئے تھے۔دونوں کا یہ خیال ہے کہ سارا<br />

وقت خاندان کی توقعات اور معاشرہ کی توقعات کے<br />

مابین توازن قائم رکھنا ایک سخت ا ور مشکل مرحلہ<br />

تھا۔ وہ والدین کے غیر یقینی پن اورمتذبذب ہونے کو<br />

سمجھتی ہیں مگر نوعمری میں کسی بات پہ انکار سے<br />

نفرت کرتی تھیں۔<br />

8<br />

کل وقتی رول ماڈل<br />

باہمی بات چیت اہم ہے<br />

بطور رول ماڈل اس کی زندگی کا اسی وقت سے<br />

آغار ہو گیا جب اسے زبان سکھانے والے سکول کی<br />

کینٹین میں کام مل گیا۔روزانہ اس سے نوجوان اور<br />

عمر رسیدہ لوگ ملتے ہیں جن کو بات چیت کرنے<br />

کی ضرورت ہوتی ہے۔شازیہ کو معلوم ہے کہ کسی<br />

کیساتھ اپنے روزمرّہ کے مسائل پہ بات کرنا کس قدر<br />

اہم ہے۔چاہے ان مسائل پہ بات کرنا کتنا ہی مشکل<br />

کیوں نہ ہو۔<br />

10<br />

مونا کی دنیا<br />

ڈراؤنے خواب اور معجزے<br />

موناکی المیہ کہانی پڑھئے کہ کیسے انہیں بھاری<br />

نقصان ہوا اور ایک بڑی جیت ہوئی ۔گھریلو<br />

زندگی میں خاوند کی مارپٹائی،طالق اور بچوں کے<br />

اغواجیسی باتوں سے وہ کیونکر کامیابی سے نبرد<br />

آزما ہوئیں؟ آج وہ ایک خود پہ جائزطور پہ فخر کرنے<br />

والی چھ بچوں کی ماں،‏ مترجم اور ثقافتی امور میں<br />

معلومات بہم پہنچانے والی کی حیثیت سے زندگی<br />

4<br />

12<br />

متحرک رہیں۔ بہت سی<br />

ممکنات کو استعمال کریں<br />

خدیجہ سے ملیںجس نے ڈنمارک میں ‎10‎سال رہنے<br />

کے بعد ڈینش زبان سیکھنے کا فیصلہ کیا اور بعد<br />

ازاں مزید تعلیم حاصل کی۔ خدیجہ کو پابندیوں کی<br />

نسبت ممکنات دکھائی دیتی ہیں۔وہ ان ممکنات کو<br />

آزدی کے طور پہ دیکھتی ہیں،‏ اور انہیں زیرِ‏ استعمال<br />

النے کو ایک فرض گردانتی ہیں۔<br />

14<br />

14<br />

10<br />

8<br />

فہرست<br />

علم کی شاہراہ<br />

الئبریری نے مجھے پار لگایا<br />

خدیجہ الئبریری کی گرویدہ و مداح ہیں،جس میں<br />

دنیا بھر سے کتابوں،‏ موسیقی کے اک جہان کے ذریعہ<br />

انہیں ڈینش معا شرہ میں داخلہ کا رستہ مال۔انہیںاس<br />

بات پہ یقین ہے کہ علم اور معلومات ہر ایک عورت<br />

اور مرد کو متحمل مزاج اور برد بار بناتے ہیں۔<br />

بسر کر رہی ہیں۔<br />

2 مائیں اور بیٹیاں-‏ دو تہذیبوں کے درمیان مائیں اور بیٹیاں-‏ دو تہذیبوں کے درمیان 3


Saima<br />

Shahzad<br />

عمر:‏ ‎38‎سال<br />

بچے:‏ 3 بچے<br />

‏﴿‏‎2‎لڑکیاں ایک لڑکا﴾‏<br />

راہئش:‏ آمائر Amager<br />

پسِ‏ منظر:‏ پاکستان<br />

پیدائش کا ملک:‏ برطانیہ<br />

14 سال کی عمر میں<br />

ڈنمارک آئیں<br />

پیشہ ورانہ مصروفیت:‏<br />

ماحولیاتی سفیر،‏ صحت<br />

کے بارے معلومات بہم<br />

پہنچانے والی،‏ تیراکی<br />

انسٹرکٹر ورزش کی<br />

انسٹرکٹر،‏ عمر رسیدہ<br />

عوتوں کے کلب کی<br />

معاون پراجیکٹ<br />

معاشرہ کے اندر<br />

خوشتر انسان اور بہتر ماں<br />

صائمہ شہزاد جانتی ہیں زندگی دونوں باتوں کا نام ہے ۔کچھ<br />

تو دوسروں کے لئے اور خود اپنے آپ کے لئے۔ اپنے بچوں کی<br />

ماں اور ان کی دوست کی طرح سے۔ دونوں باتیں یعنی حدود<br />

مقرر کرنا اور اجازت دینا۔ پاکستانی اور ڈینش دونوں ہونا’’‏<br />

انسان کو وہی ملتا ہے جو وہ دیتا ہے-‏ دنیا اور اپنے بچوں کو<br />

دونوں طرح سے یہ بات حقیقت ہے‘‘‏<br />

صائمہ تین بچوں کی ماں اور بیوی ہیں،‏ اُن کے 85<br />

سالہ سسران کے اہں رہتے ہیں۔ جب ‎18‎سال کی<br />

عمر میں ان کی شادی ہوگئی تھی ، پہلے بچے کی<br />

پیدائش کے بعد وہ کچھ سال گھر میں رہیں تو<br />

انہیں تنہائی اور یکسانیت کا احساس ہونا شروع<br />

ہوگیا۔انہیں محسوس ہوا کہ اس طرح ان کا مزاج<br />

اور خود اعتمادی متاثر ہوئی ہے۔اس لئے انہوں نے<br />

وہ سارے کورسز کر ڈالے جو ان کی دسترس میں<br />

آتے تھے۔ آج وہ تیراکی سکھاتی ہیں،‏ صحت کی<br />

معلومات بہم پہنچاتی ہیں۔ عورتوں کے ایک کلب<br />

میں پراجیکٹ کی معاون ہیں۔ جس عمارت میں وہ<br />

رہتی ہیں واہں کے مکینوں کو راہئش کے سلسلہ میں<br />

مشورے دیتی ہیں۔’’صائمہ مسکراتے ہوئے کہتی ہیں<br />

میں مصروف رہنا پسند کرتی ہوں‘‘۔<br />

ان کی فالسفی یہ ہے کہ باہر جا کرکافی کچھ<br />

کرنااچھا ہوتا ہے۔ ان کے بچے جن کی عمریں 9<br />

‏,‏‎12‎ور 6 سال ہیں اپنی ماں کے نقشِ‏ قدم پہ چل<br />

رہے ہیں۔ وہ تیراکی کرتے ہیں ، ہینڈ بال،‏ فٹ بال<br />

کھیلتے ہیں اور اپنے فارغ اوقات میں کافی متحرک<br />

ہیں۔صائمہ کا کہنا ہے کہ’’یہ نہائت ضروری ہے<br />

کیوں کہ ہم اسی طرح دوسروں اور اپنے بارے میں<br />

بہت کچھ سیکھتے ہیں‘‘۔<br />

ڈنمارک میں عورتیں بیک وقت اچھی مائیں رہتے<br />

ہوئے اپنی ذاتی ترقی کر سکتی ہیں۔’’‏ ڈنمارک میں<br />

زندگی آسان ہے،‏ یہاں ووگِ‏ ستؤ اور بارنِ‏ ہئوہیں،‏<br />

جبکہ بچے انسٹی ٹیوشنز میں ہوتے ہیں تو عورتیں<br />

بچوں اور اپنے روزمرّہ کے عالوہ بھی زندگی بسر کر<br />

سکتی ہیں۔پاکستان میں انسان ایک مرد کامحتاج<br />

ہوتا ہے،‏ جب باہر جانا ہو تو کسی کا ساتھ ہونا<br />

ضروری ہے-‏ ڈنمارک میں عورتیں اپنی زندگی کے<br />

بارے میں معامالت خود طے کرتی ہیں۔‘‘‏<br />

انسان ہر لمحہ سیکھتا رہتا ہے<br />

‏’’انسان جب معاشرہ میں جاتا تو ہر وقت کچھ نہ<br />

کچھ نیا سیکھنے کو ملتا ہے‘‘‏ صائمہ کہتی ہیں’’‏<br />

انسان علم اور اپنے روابط سے خوشی محسوس کرتا<br />

ہے۔اگر کوئی معاشرے کو اور زبان نہ سمجھتا ہو تو<br />

آسانی سے خوفزدہ ہو سکتاہے‘‘۔<br />

صائمہ کا خیال ہے کہ اسی طریقہ سے وہ خود پھل<br />

پھول رہی ہیں،‏ یہ نہائت اہم ہے کہ بچوں کے لئے<br />

بھی یہ سیکھنا ممکن ہو۔اُن کا کہنا ہے کہ’’‏ یہ اچھی<br />

بات ہے کہ بچے دوسروں سے میل جول رکھیں اور<br />

نئی باتیں سیکھیں۔باہر جا کر وہ ڈینش معاشرہ کی<br />

کارکردگی سمجھتے ہیں اور گھر میں اپنی<br />

تہذیب و ثقافت کے متعلق سیکھتے ہیں۔انہوں نے<br />

ڈنمارک میں رہنا ہے اور یہیں زندگی بسر کرنی ہے۔<br />

اس واسطے یہ اہم ہے کہ جس قدر جلد ممکن ہو وہ<br />

دوسرے ڈینش بچوں کے ساتھ معا شرہ میں گھل مل<br />

کر اس کا حصّ‏ ہ بن جائیں‘‘۔<br />

ان کے اپنے والدین سخت گیر تھے۔وہ یاد کرتی ہیں<br />

کہ کیسے انہیں ٹوؤر اور الئیر سکول میں جانے کی<br />

اجازت نہیں تھی۔’‘‏ جب دوسرے بچے واپس لوٹ<br />

کرآپس میں اپنے تجربات کے بارے میں بات چیت<br />

کرتے تھے تو مجھے از حد افسوس ہوتا تھا،‏ اورمیں<br />

خودکو ان کا حصّ‏ ہ نہیں محسوس کرتی تھی‘‘۔<br />

وہ یہ سمجھتی ہیں کہ دیگر لساّنی ‏،تہذیبی پسِ‏ منظر<br />

والے بچے اب خوش قسمتی سے بہت مضبوط ہو گئے<br />

ہیں۔’’‏ آج وہ کسی معاملہ پر بحث و تمحیث کر<br />

سکتے ہیں۔میرے بچے بہت بحث کرتے ہیں اورحدود<br />

کو دھکیلنے کی کوشش کرتے ہیں۔ میں ان کے لئے<br />

زیادہ لچک دار ہوں اور ان کے معامالت کو سمجھتی<br />

ہوں،‏ کیونکہ انہیں یہ احساس نہیں ہونا چایئے کہ<br />

وہ کسی بات میں شامل نہیں ہیں۔ ان کو تجربہ ہونا<br />

چاہیئے کہ ہم جماعتوں کے ساتھ باہر کیسے راہ جاتا<br />

ہے۔ یہ بھی اہم ہے کہ استاد بچے کو دوسرے پہلو<br />

سے بھی جانتے ہوںنہ کہ صرف کالس کے کمرے<br />

میں‘‘‏ صائمہ کہتی ہیں۔<br />

آپ کی بیٹی کے راز<br />

جب بچے مضبوط ہوتے ہیں اور کچھ نیا تجربہ کرتے<br />

ہیں تو یہ امر والدین سے بھی تقاضا کرتا ہے۔’’‏ انسان<br />

صرف اسی بات کو پکڑ کے نہ بیٹھ جائے کہ میرے<br />

والدین نے یوں کیا تھا‘‘‏ صائمہ کہتی ہیں۔ ’’ والدین<br />

کی بھاری ذمہ داری ہوتی ہے اور پھر ماں کی تو<br />

خصوصی ذمہ داری ہوتی ہے کیونکہ زیادہ تر اسی<br />

نے بچوں کی تربیت وپرورش کرنی ہوتی ہے۔ آپ کو<br />

اپنے بچوں کے قریب ہونا چاہئے اور ان کے ساتھ وقت<br />

بتا نا چایئے-گو آپ تھکی ہوں۔ ہم مصروف ہوتے ہیں<br />

اوردن جلدی بیت جاتا ہے،‏ مگر بچوں کے ساتھ ضرور<br />

بیٹھ کر بات کریں-‏ چاہے<br />

25-20 منٹ روزانہ<br />

ہو‘‘،اُن کا مشورہ ہے۔<br />

ماں ہونے کے ناطے آپ<br />

کا مزید فرض بنتا ہے کہ<br />

آپ بیٹیوں کے ساتھ وقت<br />

گزاریں۔ اگر انہیں گھر<br />

سے توجہ نہیں ملتی تو<br />

وہ اسے باہر تالش کریں<br />

گی۔ صائمہ کا کہنا ہے<br />

کہ’’‏ میری بیٹی کو مجھ<br />

پر بھروسہ ہونا چاہئے،‏<br />

اور اگر وہ مجھے کوئی<br />

بات بتاتی ہے تو میں<br />

کبھی اسے ڈانٹ ڈپٹ<br />

نہیں کروں گی ۔ اگر وہ<br />

کوئی غلطی کرتی ہے تو<br />

میں اسے سمجھنے کی<br />

کوشش کروں گی اور<br />

بتاؤں گی کہ ٹھیک کیا<br />

ہے اور کیا غلط ہے - اور مجھے کیوں افسوس ہوا ہے۔<br />

میں کبھی غصہ نہیں کرتی اور نہ ہی اس پر چیختی<br />

چالتی ہوں ۔ اگر بچے کبھی غلطی کر بیٹھیں تو<br />

‏،خواہ کچھ بھی ہویہ بڑاہم ہے کہ انہیں احساس ہو<br />

کہ وہ اپنی ماں کے پاس جا سکتے ہیں‘‘‏ ۔<br />

بچوں کا آپس میں تقابل نہ کریں<br />

صائمہ کے بچوں کو پتا ہوناچاہئے کہ وہ جیسے ہیں<br />

انہیں پیار کیا جاتاہے۔’’جب تک میرے بچے نفیس<br />

انسان ہیں،‏ تو لوگ جو بھی کہتے ہوں میں اسے<br />

خاطر میں نہیں التی ہوں۔لوگ طرح طرح کی باتیں<br />

بناتے ہیں دوسروں کے کہنے سننے کو اپنے اوپر اثر<br />

انداز نہیں ہونے دینا چاہئے ‏‘‘۔وہ کہتی ہیں۔<br />

جب صائمہ کی والدہ اِن کا تقابل دوسرے بچوں سے<br />

کیا کرتی تھیں تو وہ بہت نااراض ہوتی تھیں۔’’‏<br />

میں ا ‏ُن سے کہتی تھی کہ آپ اسے بیٹی بنا لیں۔<br />

صائمہ کے<br />

3 مفیدمشورے<br />

• ‏اپنے بچوں کا دوجے بچوں سے کبھی<br />

تقابل نہ کریں ۔انہیں یہ جان کر دکھ<br />

ہو گا کہ دوسروں کے بچے اُن سے<br />

بہتر ہیں یا زیادہ ہوشیار ہیں۔<br />

• ‏جب آپ کا بچہ غلطی کرے تو غصّ‏ ہ<br />

نہ کریں اور ناراض نہ ہوں،‏ کیونکہ<br />

پھر اگلی دفعہ وہ آپ کے پاس نہیں<br />

آئے گا۔ آپ وہ شخص ہونے چاہیئں<br />

کہ جس کے پاس وہ آ سکیں خواہ<br />

کچھ بھی ہوجائے۔<br />

• ‏اپنے بچوں کو موقع دیں اور ان پر<br />

اعتماد کریں۔ ایسی حدود مقرر کرنے<br />

سے گریز کریں جوانہیں سکول کی<br />

اجتماعیت سے روکتی ہوں۔<br />

‏’’جب انسان باہر معاشرہ<br />

میں جاتا ہے تو ہر روز<br />

کچھ سیکھتا ہے۔ بندہ<br />

علم اور اپنے روابط سے<br />

خوشی حاصل کرتا ہے<br />

۔اگر آپ معاشرہ اور زبان<br />

نہ سمجھتے ہوں تو آپ<br />

ان جانی بات سے خوفزدہ<br />

رہیں گے‘‘‏<br />

والدین بچوں کے ساتھ جو سب سے برا کر سکتے<br />

ہیں وہ یہ کہنا ہے’‏ کہ دیکھو وہ کتنی اچھی ہے‘۔<br />

بچے مختلف ہوتے ہیں-‏ اور آپ کے بچے جیسے بھی<br />

ہیں وہ ہیں۔ اصل میں والدین کایہ اپنا مسئلہ ہوتا<br />

ہے کہ وہ دوسرے والدین کے ساتھ مقابلہ محسوس<br />

کرتے ہیں۔وہ بچوں کے<br />

بل پر ڈینگ مارتے ہیں اور<br />

شوخی بگھارتے ہیں کہ<br />

ان کے بچے دوسروں کے<br />

مقابلہ میں اچھے ہیں‘‘۔<br />

صائمہ خصوصی طور پہ<br />

دھیان کرتی ہیں کہ وہ<br />

اپنے بچوں پہ دباؤ نہ ڈالیں۔<br />

والدین کی بچوں سے بڑی<br />

بڑی توقعات وابستہ ہوتی<br />

ہیں،‏ مگر یہ الٹا نقصان دہ<br />

بھی ہو سکتا ہے۔’’‏ مثال<br />

کے طور پہ بچے سکول سے<br />

آن کے کہیں کہ سکول<br />

سے تھک گئے ہیں۔ یہ<br />

لفظ والدین کے ذخیرہ<br />

الفاظ میں سرے سے ہی<br />

شامل نہیں ہے۔ سکول<br />

سے تھکنا؟ کیا مطلب ہے<br />

تمھارا ؟ بچوں پہ دباؤ ڈالنے<br />

کی بجائے ان کو سمجھائیں کہ تعلیم کا حصول کیوں<br />

اہم ہے ‏،تو وہ بہتر طور پہ سمجھ سکتے ہیں۔اگر ان<br />

پہ سخت دباؤ ہو تو وہ دنیاکی باتوں اور مایوسی سے<br />

بچاؤ کی خاطر کسی بھی بات کا وعدہ کرلیں گے۔<br />

اِنٹگریشن ‏-اور موٹر سائیکل<br />

صائمہ اپنی مصروف زندگی سے خوش ہیں۔اس لئے<br />

بھی خوش ہیں کہ انہیں اِنٹگریشن کے ضمن میں<br />

لوگوں کے ساتھ کام کرنا ہوتا ہے۔ان کا خیال ہے<br />

کہ یہ ضروری ہے کہ خاص طور پہ عورتوں کی مدد<br />

کی جائے کہ وہ باہر آ کرسیکھنے اور تجربہ کرنے کی<br />

ممکنہ سہولیات و مواقع سے استفادہ کریں،‏ آپ ایک<br />

خوشتر انسان ہونے کے ساتھ ساتھ بہتر ماں ثابت ہو<br />

سکتی ہیں۔ صائمہ کا کہنا ہے کہ ’’ میں لوگوں کی<br />

مدد کرنا چاہتی ہوں کہ وہ خوش ہوں اوراک بہتر<br />

زندگی پائیں ‘‘ ۔<br />

اپنی بیٹیوں کے بارے میں وہ کہتی ہیں کہ وہ خوش<br />

اور خود مختار ہوں۔ وہ امید کرتی ہیں کہ بیٹیوں<br />

کے خاوند ایسے نہیں ہوں گے جنہیں ایک زائد بچے<br />

کی طرح دیکھ بھال اور مددکی ضرورت ہو۔’’‏ اگر<br />

وہ زبان اور ثقافت کو نہیں جانتا تو عورت پر اس کی<br />

محتاجی بڑی بھاری پڑتی ہے۔ وہ بندھ کے رہ جاتی<br />

ہے‘‘‏ صائمہ کہتی ہیں۔ ضروری نہیں کہ بچوں کی<br />

شادیاں پاکستان میں ہوں،‏ مگر ایک بات یقینی ہے کہ<br />

وہ مسلمانوں سے بیاہ کریں۔<br />

مستقبل میں صائمہ کی اپنے بارے میں خواہشات کیا<br />

ہیں؟ ‏’’میں موٹر سائیکل کا الئسنس حاصل کرکے<br />

موٹر سائیکل چالنا چاہتی ہوں۔ میرایہ اگالپراجیکٹ<br />

ہو گا‘‘‏ صائمہ ہنستے ہوئے کہتی ہیں۔<br />

ایک کتاب جس پر سوچ بچار کرنی چاہیئے:‏<br />

Elsker-elsker ikke<br />

اس کتاب میں‎12‎ غیر ملکی عورتیں والدین<br />

کی مرضی سے طے شدہ شادی کے بارے میں<br />

بتالتی ہیں۔اس طرح سے یہ‎12‎ کہانیاں ہیں جویہ<br />

بیان کرتی ہیں کہ کس طرح وہ ڈینش اور اپنے<br />

ملک کی خاندانی روایات اور اپنی زندگی کے<br />

طریقوںکو باہم جوڑتی ہیں۔ عورتیں سکارف<br />

باندھنے،‏ والدین کی طرف سے طے شدہ شادی<br />

کرنا ، اسالم،‏ خاندانی روایات کا انتخاب کرتی<br />

ہیںاور اپنی زندگی بسر کرتی ہیں۔کتاب یہ بیان<br />

کرتی ہے کہ ان لڑکیوںکی شرائط ِ زندگی کتنی<br />

گوناگوں ہیں ، اوروہ کیونکر زندگی کو اپنی<br />

شرائط پہ بتاتی ہیں۔<br />

Marianne Nøhr Larsen (2000):<br />

Elsker-elsker ikke - om kærlighed og<br />

arrangerede ægteskaber.<br />

Århus: CDR Forlag<br />

ایک کتاب جس سے عقل روشن ہوتی ھے :<br />

Allahs piger<br />

اس کتاب میں‎8‎نوجوان مسلمان عورتیں اپنی<br />

زندگی کے متعلق بتاتی ہیں۔ان کی عمریں<br />

‎17‎تا‎28‎سال ہیں اور وہ اپنے خاندان کے ساتھ<br />

چھوٹی چھوٹی لڑکیوں کے طور پر ڈنمارک میں<br />

آئی تھیں۔ وہ اپنے روزمرّہ کے بارے میں بتاتی ہیں<br />

شادی اور جنسی زندگی ‏،دکھ درد اور تنہائی کو<br />

بیان کرتی ہیں۔وہ اپنی خواہشات اور خوابوں کا<br />

ذکر کرتی ہیں کہ وہ کیسے آزاد اور دوسرں کی<br />

محتاج نہ ہوتے ہوئے اپنے اسالمی تہذیبی پسِ‏<br />

منظر کے ساتھ ڈینش عورتوں کی طرح زندگی<br />

گزار سکتی ہیں۔<br />

یہ لڑکیاں بنیادی طور پرترکی ‏،ایران،‏ پاکستان،‏<br />

اور مراکش نیز فلسطین،‏ لبنان اور ترکی کے<br />

کردی عالقہ کی رہنے والی ہیں۔<br />

Vibeke Heide-Jørgensen (1996)<br />

Allahs piger. København: Aschehoug<br />

4 مائیں اور بیٹیاں-‏ دو تہذیبوں کے درمیان مائیں اور بیٹیاں-‏ دو تہذیبوں کے درمیان 5


Lina Hashim<br />

عمر:‏ ‎30‎سال<br />

بچے:‏‎1‎بیٹی<br />

راہئش:کوپن ہیگن<br />

København<br />

پسِ‏ منظر:‏ عربی ‏﴿عراقی﴾‏<br />

پیدائش کا ملک:‏ کویت<br />

ڈنمارک میں‎14‎ سال کی<br />

عمر میں آئیں<br />

پیشہ ورانہ مصروفیت:‏<br />

اینتھروپولوجی کی طالبہ<br />

(DPU) موسیقار،‏ فنکارہ،‏<br />

پورٹریٹ نقاش،‏ مترجم<br />

Imran<br />

Erdogmus<br />

عمر:‏ ‎23‎سال<br />

بچے:کوئی نہیں<br />

راہئش:ہولبیک Holbæk<br />

پسِ‏ منظر:‏ ترکی<br />

پیدائش کا ملک:‏ ترکی<br />

ڈنمارک میں 3 سال کی<br />

عمر میں آئیں پیشہ ورانہ<br />

مصروفیت:‏<br />

استاد کی تعلیم<br />

Foto: Stillleben<br />

Foto: Jeppe Carlsen<br />

بیٹیوں سے ڈائیالگ دو جاب کرنے جیسا لگتا تھا<br />

عمران عردوگموسErdogmus Imran اور لینا اہشم Lina Hashim اقدار اور توقعات کے مابین<br />

توازن برقرار رکھنے میں اچھی ہیں۔وہ اپنے بچپن سے لیکر نوعمری تک یہ کرتی آئی ہیں اور<br />

کبھی کبھار اب بھی کرتی ہیں۔ یہ دو کنبوں کی نوجوان عورتیں ہیں جو اپنا وطن چھوڑ کے<br />

ڈنمارک آئے تھے۔یہ دیگر لسّ‏ انی،تہذیبی پسِ‏ منظر کی حامل لڑکیاں ہیں۔<br />

عمران عردوگموسErdogmus Imran اور لینا<br />

اہشم Linaخود Hashim کو دوسری نوجوان<br />

ڈینش عورتوں سے مختلف تصور نہیں کرتی ہیں وہ<br />

سمجھتی ہیںکہ ثقافت اور دیگر لسّ‏ انی،تہذیبی پسِ‏<br />

منظر کے متعلق بات چیت کبھی کبھار تھکا دینے<br />

والی ہوتی ہے۔<br />

مگر عمران اور لینا یہ جانتی ہیں کہ دیگر لسّ‏ انی،‏<br />

تہذیبی پسِ‏ منظروالی لڑکیوں کے لئے چیزیں ذرا<br />

جداگانہ ہیں۔ ‏’’کچھ ان لکھے بنیادی اصول ہیں<br />

کہ ایک لڑکی کا رویہ کیسے ہونا چاہئے۔ آپ کو<br />

سارا وقت خاندان کی توقعات اور ڈینش معاشرہ کی<br />

توقعات کے مابین ایک توازن برقرار رکھناہوتا ہے ‘‘<br />

عمران کہتی ہیں۔<br />

دو دنیائیں<br />

‏’’یہ مشکل تھا‘‘‏ لینا کہتی ہیں ‏’’درحقیقت یوں<br />

محسوس ہوتا تھاجسے میں دو جاب کر رہی ہوں۔<br />

ایک جاب ڈینش ہونا تھی،‏ اور دوسری جاب عربی<br />

ہونا تھی۔ جوں ہی میں گھر کی دہلیز کے اندر<br />

قدم رکھتی تھی مجھے یوں لگتا تھا جیسے میں نے<br />

اپنی پہچان بدل لی ہواور جب گھر سے باہر جاتی تو<br />

دوسری پہچان ہوتی تھی۔‘‘‏<br />

عمران ان احساسات کو پہچانتی ہیں:’’ہمیں ڈینش<br />

تہذیب و ثقافت سے بہترین اقدار لے کر اور ترکی<br />

سے بہترین اقدار کے آمیزہ سے کچھ ذاتی طور پہ اپنانا<br />

چاہئے۔ اصل میں یہ سب کچھ خود کرنا چاہئے جب<br />

انسان کی عمر 13-12 سال ہو۔ اس وقت توازن برقرار<br />

رکھنا مشکل تھا۔ مجھے سارا وقت دوسروں کی<br />

توقعات پر پورے اترنا ہوتا تھا‘‘۔<br />

حتمی نانہہ<br />

‏ُبُری باتوں میں سب سے بُری بات یہ تھی کہ والدین<br />

بنا وجہ بتائے انکار کر دیتے تھے۔ یہ حتمی نانہہ ہوتی<br />

تھی - تم یہ نہیں کر سکتیں!‏ مجھے کیوں اجازت<br />

نہیں ہے؟ بس تم نہیں کر سکتیں!‏ یہ سب مجھے<br />

پاگل کئے دیتا تھا۔ کیونکہ سکول اور دوسری<br />

جگہوںمیں چیزوں کو ایسے تو نہیں کیا جاتا جس<br />

میں کوئی وضاحت نہ ہو‘‘‏ عمران کہتی ہیں۔<br />

‏’’میں بھی اس بات کو نہیں سمجھ سکتی‘‘‏ لینا کہتی<br />

ہیں’’‏ میرے لئے بھی دوستوں کو وضاحت کرنا<br />

مشکل تھا کیونکہ مجھے خود سمجھ نہیں آتی تھی<br />

کہ مجھے انکار کیوں ہوا ہے<br />

مجھے اپنے والدین پر غصّ‏ ہ آتا تھا۔ مگر میں یہ بھی<br />

چاہتی تھی کہ وہ خود کو برے والدین نہ سمجھیں۔<br />

اس لئے میں بعض اوقات جھوٹ بولتی تھی اور کوئی<br />

نہ کوئی بہانہ گھڑ لیتی تھی کہ میری فیملی نے<br />

یہ کرناہے وہ کرنا ہے تا کہ میرے دوست سوال نہ<br />

کریں۔‘‘‏<br />

آج دونوں عورتیں سمجھ سکتی ہیں کہ وہ والدین<br />

کاخوف اور غیر یقینی پن تھا۔ والدین ڈینش معاشرہ<br />

کو نہیں جانتے تھے۔ ان کے ذاتی تجربات نہ تھے کہ<br />

الئیر سکول کیا ہوتا ہے یا دوستوں کے اہں سونے کا<br />

مطلب کیا ہوتا ہے۔مگر نوعمری میں اس کو قبول<br />

کرنا مشکل تھا-‏ یہ احساس تکلیف دہ تھا کہ میں<br />

مختلف اور جداگانہ ہوں۔ لینا کہتی ہیں:‏ ‏’’میں خود<br />

کو تنہا محسوس کرتی تھی اور سوچتی تھی کہ میں<br />

ہم جماعتوں کے ساتھ کبھی دوستی نہ کر پاؤں گی‘‘۔<br />

اچھی لڑکی<br />

دونوں ایک’‏ اچھی لڑکی’‏ سے توقعات کے بارے میں<br />

بات کرتی ہیں۔سب کی نظریں لڑکی کےانتخاب<br />

اور حرکات پر مرکوز ہوتی تھیں-‏ اس بات کا خوف<br />

بہت زیادہ تھا کہ نیٹ ورک انگوٹھا نیچے کر کے<br />

نا پسندیددگی کا اظہار کرے گا عمران کہتی ہیں’’‏<br />

پیٹھ پیچھے باتیں سب سے برامحرک ہوتی ہیں۔<br />

اچھی باتیں گم ہوجاتی ہیں-‏ بری باتوں کا اثر یہ ہوتا<br />

ہے کہ انسان کہیں کانہیں رہتا،‏ اور ایک برا انسان<br />

بن کے رہ جاتا ہے۔‘‘‏<br />

‏’’اہں یہ ٹھک بات ہے‘‘‏ لینا اضافہ کرتے ہوئے کہتی<br />

ہیں:’’‏ فیملی صرف ماں باپ اور نزدیکی کنبہ نہیں ہے<br />

، بلکہ باقی سب لوگ جو کچھ آپ کے سٹیٹس کے<br />

بارے میں کہتے ہیں ایک اچھی لڑکی کے طور پر۔<br />

سب لوگوں کی رائے اثر انداز ہوتی ہے-‏ اور صرف<br />

والدین ہی کی رائے نہیں ہوتی۔‘‘‏<br />

گرچہ والدین کی طرف سے لڑکیوں کا تحفظ کرنے<br />

کی کوشش ہوتی ہے ، پر ہمارے لئے سمجھنا ایک<br />

مشکل بات تھی۔ ‏’’میں 14-12 سال کی عمرمیں<br />

بیٹھی سوچتی تھی اماں اس سے کیا فرق پڑتا ہے جب<br />

تمہیں معلوم ہے کہ میں کہا ں تھی،‏ تم مجھ پہ<br />

اعتماد کرتی ہواور میں نے کوئی غلط کام نہیں کیا۔<br />

میری ماں مجھ سے رضامند ہے مگر وہ لوگوں کا منہ<br />

نہیں بند کر سکتیں۔‘‘‏<br />

حدود کو سرکایاجا سکتا ہے<br />

دوسری نوجوان لڑکیوں کی طرح عمران اور لینا نے<br />

بھی والدین کے ساتھ حدود پر سودے بازی کی۔<br />

باوجودیکہ وہ بہت سی چیزیں نہیں کرسکتی تھیں<br />

مگر وقت کے ساتھ والدین نے کچھ رعایت دی۔ لینا<br />

کو کبھی الئیر سکول جانے کی اجازت نہیں ملی مگر<br />

ایفتر سکول efterskoleجانے کی اجازت مل گئی۔’’‏<br />

میں بڑی خوش تھی کہ مجھے اجازت مل گئی۔<br />

کسی اور نے یہ کام نہیں کیا تھا میرے والدین کو<br />

اپنے حلقہ احباب میں اپنے فیصلہ کا دفاع کرنا پڑا ۔‘‘‏<br />

میری دوست بھی میرے ساتھ تھی تو میرے لئے یہ اور<br />

بھی اہم ہوگیا۔ ہمارے والدین نے اس کو اتنی اہمیت<br />

دی،‏ یوں تقریباً‏ یہ ایک مشترکہ فیصلہ بن گیا ‘‘ لینا<br />

ہنستی ہیں۔ ’’ کوئی نہ کوئی ایک ہوتا ہے جو پہال<br />

قدم اٹھاتا ہے اور دوسرے اس کی پیروی کرتے ہیں۔ بد<br />

قسمتی سے بہت سے غیر ملکی والدین یہ نہیں جانتے<br />

کہ واہں کیا ہوتا ہے اور طرح طرح کی قیاس آرائیاں<br />

کرتے ہیں۔یہ اہم بات ہے کہ انہیں ڈینش معاشرہ کی<br />

اچھی پہچان کروائی جانی چاہئے۔‘‘‏<br />

تعلیم<br />

عمران اور لینا دونوں کے والدین نے ان کی تعلیم کو<br />

اہم گردانا ہے۔عمران کے والدین نے شروع سے اس کی<br />

امداد کی کہ وہ فولکِ‏ سکول کی استاد بننا چاہتی<br />

تھی،‏ جبکہ لینا کے والدین کو یہ ماننے میں مشکل<br />

تھی کہ وہ تخلیقی کام اور موسیقی اور آرٹ میں کام<br />

کرنا چاہتی تھی۔<br />

’’ اس بات کو کافی سال لگے اور ایک دوبار خود<br />

اعتمادی بھی چٹخ گئی۔ مگر مجھے معلوم تھا کہ<br />

میں یوں ہی اہر نہیں مان سکتی ۔ میں نے ان کی بات<br />

بھی تسلیم کی ہے اور یونورسٹی ڈگری سطح کی<br />

تعلیم حاصل کی۔ میرے والدین کے اور پالن تھے۔ یہ<br />

بتانا آسان ہے کہ لڑکی ڈاکٹر بن رہی ہے،‏ بجائے اس<br />

کے کہ ہماری بیٹی فنکارہ ہوگی۔ لیکن آج وہ نتائج<br />

سے خوش ہیں‘‘‏ لینا ایک مسکراہٹ کے ساتھ کہتی<br />

ہیں۔<br />

اپنا آپ ہونا<br />

عمران اور لینا مضبوط نوجوان لڑکیاں ہیں ۔وہ اس<br />

غیر یقینی پن کو سمجھ سکتی ہیں ، جو والدین کو<br />

درپیش تھاجب وہ بڑی ہو رہی تھیں مگر اب انہیں<br />

معلوم ہے کہ وہ خود بطور ماں بہت سی چیزوں کو<br />

جدا گانہ طریق سے کریں گی۔ ’’ اب مجھے معلوم<br />

ہے میں کون ہوں‘‘‏ عمران کہتی ہیں’’‏ اور جو مجھے<br />

جانتے ہیں انہیں پتا ہے میں کون ہوں۔ مجھے خوب<br />

خبر ہے کہ میری حدود کہاں تک ہیں اور کیسے<br />

میں اپنی تہذیب و ثقافت پر گرفت مضبوط رکھوں<br />

اورکیسے میں ڈینش معاشرہ کا حصّ‏ ہ ہوں۔‘‘‏<br />

عمران اور لینا اس امر کو الزمی سمجھتی ہیں کہ<br />

والدین اور بچے آپس میں بات چیت کر کے پھل پھول<br />

سکتے ہیں۔<br />

دونوں عورتیں آج یہ دیکھتی ہیں کہ ان کے والدین<br />

خوش ہیں اور بیٹیوں کے انتخاب پر فخر کرتے ہیں-‏<br />

جس انتخاب پر شروع میں وہ راضی نہ تھے۔<br />

اب و ہ آگاہ ہیں کہ ڈینش والدین بھی اپنے بچوں کے<br />

لئے حدود کا تعین کرتے ہیں۔جب لینا اور عمران<br />

چھوٹی تھیں تو وہ یہ سمجھتی تھیں کہ ڈینش بچے<br />

ہربات کا تعین خود کرتے ہیں۔ لیکن جیسے کہ لینا<br />

کہتی ہیں ‏’’سارے والدین بچوں کا تحفظ کر نا چاہتے<br />

ہیں۔ تو جو بہترین ان سے بن پڑتاہے وہ کرتے ہیں‘‘۔<br />

عمران اور لینا سے<br />

‎3‎مفید مشورے<br />

• ‏سمجھوتہ کریں!‏ والدین ہونے کے<br />

ناطے آپ اپنی روایات و اقدارکا<br />

احترام کرتے ہوئے خود کو بچوں<br />

کی جگہ رکھیں۔صرف نانہہ کہنے<br />

کی بجائے وضاحت کریں کہ حدود<br />

کاتعین کیوں کیا جاراہ ہے تا کہ بچے<br />

وجہ کو سمجھیں۔<br />

• ‏اپنے بچوں کی خواہشات اور<br />

دلچسپیوں میں مدد کریں۔ ماں ہونے<br />

کے ناطے آپ نظر رکھیں کہ بلوغت<br />

کا زمانہ بڑا مشکل ہوتا ہے۔ جب<br />

آپ اس بات کو سمجھتے ہیں جس<br />

کی خواہش بچہ کرراہ تو مسائل<br />

حل ہو سکتے ہیں۔<br />

• ‏اپنے بچوں پر اعتماد کریں اورہمت<br />

کا مظاہرہ کریں کسی نے تو پہال<br />

قدم اٹھانا ہوتا ہے تا کہ دوسرے<br />

پیروی کر سکیں۔ اگر آپ کے بچے<br />

خصوصی خواہشات ہوں تو دیکھیں<br />

کہ آپ پہلے ہوسکتے ہیں جو اس<br />

کو آزما رہے ہیں۔جب آپ نے کوئی<br />

فیصلہ کرنا ہو توبجائے دوسروں کی<br />

باتیں سننے کے خود سے اوربچوں سے<br />

وفاداری کریں۔<br />

6 مائیں اور بیٹیاں-‏ دو تہذیبوں کے درمیان مائیں اور بیٹیاں-‏ دو تہذیبوں کے درمیان 7


شازیہ اُزیلÖzel Saziye عیس ہوائے پالن Ishøjplanenمیں سب کو جانتی ہیں،‏ اور سب<br />

شازیہ کو جانتے ہیں۔ رول ماڈل ہوناان کے روزمرّہ میں شامل ہے۔ اگر کسی کو ان کی ضرورت<br />

ہو تو ان کاموبائیل ٹیلی فون کبھی دور نہیں پڑا ہوتا۔’’سبھی کو ایک دوسرے سے بات کرنے<br />

کی ضرورت پڑتی ہے اور اپنا عکس دیکھنا ہوتا ہے‘‘‏ وہ کہتی ہیں۔<br />

Saziye<br />

Özel<br />

عمر:‏ ‎32‎سال<br />

بچے:‏ ‎3‎بچے<br />

‏﴿‏‎2‎لڑکیاں ایک لڑکا﴾‏<br />

راہئش:عِ‏ یس ہوائے Ishøj<br />

پسِ‏ منظر:‏<br />

کردی ترکی سے<br />

پیدائش کا ملک:‏<br />

ڈنمارک<br />

پیشہ ورانہ مصروفیت:‏<br />

زبان کے سکول<br />

میںریسپنسٹ اور<br />

رضاکارنہ رول ماڈل<br />

شازیہ Saziye Özel کے لئے رول ماڈل ہونا کوئی<br />

نئی بات نہیں ہے۔ وہ اتنا عرصہ رول ماڈل رہی ہیں<br />

کہ اب ان کے لئے رول ماڈل ہونا عام سی بات ہو کر<br />

رہ گئی ہے۔ یہ محض حسنِ‏ اتفاق تھا جب وہ 21 سال<br />

کی عمر میں زبان سکھانے کے سنٹر کی کینٹین میں<br />

تعینات ہوئیں۔ اس کے بعد نوجوان اور معمر لوگ<br />

آتے رہتے اور ان سے روز مرّہ کے چھوٹے بڑے مسائل<br />

پر مشورے مانگتے۔ کبھی تو انہیں صرف بات کرنے<br />

کی ضرورت ہوتی ہے۔ ’’ نوجوان لوگ مجھے’بڑی<br />

بہن‘‏ کہتے تھے‘‘‏ وہ مسکراتے ہوئے بتاتی ہیں۔<br />

عیس ہوائے میں رول ماڈل پراجیکٹ<br />

rollemodelprojekt i Ishøj کے حصّ‏ ہ کے طور<br />

پر انہوں نے بچوں اور عورتوں کے لئے بہت سی<br />

سرگرمیوں کا انعقاد کیا ہے۔اس میں ورزش سے لے<br />

کر جمعہ کے کلب کا اہتمام شامل ہے،‏ جس میں<br />

صحت اور غذا ، کینٹین میں مدد کے اصول اور دیگر<br />

موضوعات پر بات چیت ہوتی تھی۔<br />

زیادہ تر وقت تو ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے گزر جاتا<br />

ہے۔ ان کو چھوٹے بڑے عملی اور ذاتی کاموں کے<br />

لئے سبھی فون کر سکتے ہیں-‏ اگر مسائل یا باہمی<br />

کھٹ پٹ ہو تو وہ سنتی ہیں اور مدد کرتی ہیں ’’<br />

بہر صورت میری کوشش ہوتی ہے کہ معاملہ کو<br />

حل کروں۔ کچھ تو ایسے لوگ ہوتے ہیں جنہیں<br />

کسی کے ساتھ بات کرنے اور دن بِتانے کی ضرورت<br />

ہوتی ہے‘‘۔کیونکہ خودان کی زندگی مشکل ادوار<br />

سے گزری ہے اور بہت پہلے وہ محتاجی سے پاک<br />

ہوگئیں تھیں اس لئے وہ لوگوں کے دکھوں کو<br />

سمجھتی ہیں ۔<br />

باوجودیکہ شازیہ کی اپنی صحت بہت اچھی نہیں<br />

ہے اور ان کے پاس’’‏ ٹھیک طور پہ تعلیم‘‘‏ بھی نہیں ہے<br />

، لیکن جیسا کہ وہ کہتی ہیں کہ ان کا روزمرّہ اپنے<br />

بچوں اور دوسرے لوگوں سے بھرا پڑا ہے۔<br />

شازیہ کے<br />

‎3‎مفید مشورے<br />

• ‏اگر آپ غلط ہوں تو اپنے بچوں سے<br />

معا فی مانگیں یہ بات باہمی عزت و<br />

احترام کی غماض ہے۔<br />

• ‏اپنے بچوں کی خواہشات ، مضبوطی<br />

اور خیاالت پر نازاں ہوں۔ یہ ان کی<br />

بہتر زندگی کی ضمانت ہے۔<br />

• ‏اپنے بچوں کو سنجیدگی سے لیں اگر<br />

وہ کسی خواہش کا اظہار کریں تو<br />

ان کے ساتھ منفی اور مثبت پہلووں<br />

پر غور کریں۔ اس کی دریافت کریں<br />

اگر آپ خود نہ کر سکتی ہوں تو والد<br />

کو کہیں یا بچوں سے کہیں کہ وہ<br />

خود دریافت کریں کہ کیا یہ ممکن<br />

ہے اور اس کے کیا تقاضے ہیں۔ ان<br />

کی خواہشات اور دلچسپیوں کو<br />

سنجیدگی سے لیں،‏ تا کہ انہیں<br />

محسوس ہو کہ انہیں دیکھا اور سنا<br />

گیا ہے۔<br />

بندے کو دوست بھی ہونا چاہئے<br />

شازیہ بات کرنا اور سننا پسند کرتی ہیں۔ اور انہیں<br />

علم ہے کہ یہ کتنا ضروری ہے اگرانسان یہ نہ کرے<br />

تو کتنی مخالفتیں اور جھگڑے پیدا ہو سکتے ہیں ۔یہ<br />

بات ماں اور بیٹی کے تعلقات پہ بھی الگو ہوتی ہے۔<br />

کئی ماؤں اور بیٹیوں کے لئے عادات واطوار اور روایات<br />

کی خالف ورزی ہے کہ مائیں اور بیٹیاں آپس میں<br />

کھلی بات چیت کریں۔ ‏’’مائیں بیٹیوں سے بات چیت<br />

نہیں کرتیں،‏ اور بیٹیاں ماؤں سے بات چیت کرنے کی<br />

جرائت نہیں کرتی ہیں-‏ اس کی وجہ ہماری روایات<br />

ہیں۔ اس کا تعلق مذہب سے نہیں۔ کچھ لوگوں نے<br />

اسی طرح سے پرورش پائی ہوتی ہے کہ کچھ باتیں<br />

ایسی ہوتی ہیں جو گھر میں نہیں بتائی جاتیں۔ مگر<br />

یہ افسوس کا مقام ہے کہ مائیں پوچھتی نہیں ہیں<br />

کیونکہ بیٹیاں خود سے نہیں بتاتی ہیں۔ بطورماں آپ<br />

کو کھال ہوناچاہئے۔اور بعض اوقات ماں ہونا کافی<br />

نہیں بلکہ ایک دوستی سے بیٹی کے ساتھ بات چیت<br />

کرنا ہوتا ہے‘‘۔<br />

کچھ لوگ بچوں کا دوست ہونے کی مخالفت<br />

کرتے ہیں۔انہیں بہت دفعہ لوگوں نے کہا ہے کہ<br />

وہ اپنے بچوں کو ‏’زیادہ ہی بالغ‘‏ کے طور پہ لیتی ہیں<br />

۔ مگرشازیہ کے لئے یہ معاملہ دوطرفہ احترام پر مبنی<br />

ہے-‏ انسان اپنے آپ کے طور پر رہتے ہوئے بھی بچوں<br />

سے سیدھا ، ایمانداری سے اور ان کا ہم عمر بن کر<br />

بات چیت کر سکتا ہے:’’‏ ماں کے لئے کھال ہونا<br />

مشکل ہو سکتا ہے۔ مگر وہ چھوٹی چھوٹی باتوں سے<br />

آغاز کر سکتی ہیں،‏ کسی بات کو کبھی دیر نہیں<br />

ہو گئی ہوتی ۔کوئی بات بیان کرنے کے لئے بہت<br />

سے کھلے الفاظ استعمال کرنے کی ضرورت نہیں<br />

ہوتی ہے۔‘‘‏<br />

‏’’اگر بچے - لڑکے اور لڑکیاں دونوں - اپنے والدین کے<br />

ساتھ مشکل اور منع شدہ چیزوں پہ بات چیت کرتے<br />

ہوں تو انہیں آسانی سے مخالفتوں،‏ جھگڑوں سے بچایا<br />

جا سکتا ہے‘‘‏ شازیہ کا خیال ہے۔ ’’ اگر لڑکی اپنے<br />

دوستوں کے ساتھ پارٹی میں شریک ہونا چاہتی ہے<br />

اور ماں انکار کر دیتی ہے تو لڑکی ایک جھوٹ گھڑ<br />

لیتی ہے اور بہر حال وہی کرتی ہے جو اس کا جی<br />

چاہتا ہے۔اور ہو سکتا ہے وہ ابھی اس قابل نہ ہوئی<br />

ہو۔لڑکوں کو کچھ زیادہ آزادی ہوتی ہے،‏ مگر میرے<br />

اہں دونوں برابر ہیں ‘‘ ان کا کہنا ہے۔<br />

اپنی جوانی پہ نظر دوڑائیں<br />

دیگر لسّ‏ انی ‏،تہذیبی پسِ‏ منظر والی لڑکیوں کے لئے<br />

مشکل ہے کہ وہ اپنے عاشق کے ساتھ لطف اندوز<br />

ہوں۔ اس بنا پران کے لئے اور بھی ضروری ہے کہ<br />

وہ اپنی ماں سے بات چیت کریں۔ نہیں تو وہ ایسے<br />

حاالت کا شکار ہو سکتی ہیں کہ جن پر انہیں بعد<br />

میں افسوس ہو-‏ اور یہ ماؤں کا دوش ہے۔ کیونکہ ہم<br />

ان سے کھلی بات چیت کرنے پہ تیار نہیں ہیں۔اس<br />

بات میں کوئی قباحت نہیں کہ اُن کا جی چاہتا ہے‘‘‏<br />

شازیہ کہتی ہیں۔ان کا خیال ہے کہ خود ماؤں کی<br />

اکثریت اپنی جوانی میں اسی طرح کے ملتے جلتے<br />

حاالت سے گزری ہے۔<br />

’’ جب لڑکیا ں ماہواری کی عمر کو پہنچتی ہیں<br />

تو مسائل شرو ع ہو جاتے ہیں،‏ جسم میں تبدیلیاں<br />

رونما ہونا شروع ہوتی ہیں اور اہرمونز بنتے ہیں،‏ اور<br />

انہیں اس بات کی سمجھ نہیں آتی۔اچانک ہی انسان<br />

کسی لڑکے کو پسند کرنا شروع کر دیتا ہے اورا س<br />

کی وجہ کیا ہے؟ کوئی بھی بالغ عورت یہ نہیں کہہ<br />

سکتی کہ وہ یہ سب نہیں جانتی-‏ ہم سب کو اس کا<br />

علم ہے!‏ آپ کو خود بھی اس کا تجربہ ہوا تھا کیا آپ<br />

کو یاد ہے؟ یہ خطرناک نہیں ہے در حقیقت یہ بالکل<br />

نارمل ہے‘‘۔<br />

شازیہ بتاتی ہیں کہ ان کے گھر ان سب امور پہ بات<br />

ہو سکتی ہے۔کیا ٹھیک اور کیا غلط موضوعات اور<br />

جذبات ہیں اس پر کوئی اصول نہیں بنے ہوئے۔انہیں<br />

معلوم ہے کہ یہ بات بچوں کو مضبوط بناتی ہے-‏<br />

بحیثیت ماں اور بیٹیوں کے۔ ’’ ہم ہر معاملہ پر بات<br />

چیت کرتی ہیں۔میں سمجھتی ہوں کہ لڑکیوں کے<br />

ساتھ بات چیت کرنا نہائت اہم ہے۔ اس زمانہ میں<br />

لڑکیاں جلد بلوغت کو پہنچتی ہیں۔ انہیں معلوم<br />

ہونا چاہئے کہ کچھ چیزوں کا ہونا بالکل ٹھیک<br />

ہوتا ہے اور کچھ چیزوں کا ہونا ٹھیک نہیں ہوتا<br />

ہے-‏ اور ایسا کیوں ہوتا ہے۔اگرانہیں کسی ایسی<br />

بات کا سامنا کرنا پڑے جو وہ سمجھ نہ سکیں تو<br />

انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ وہ ہمیشہ مجھ سے پوچھ<br />

’’ اس وقت پہ ذرانگاہ<br />

دوڑائیں جب آپ خود<br />

نوجوانی میں نئی چیزوں کو<br />

آزمانا چاہتے تھے اور جب<br />

آپ کے والدین نےانکار کیا<br />

تو آپ کا ردِ‏ عمل کیا تھا‘‘۔<br />

سکتی ہیں۔دوسرے نوجوانوں کی طرح وہ نئی چیزوں<br />

کی آزمائش کر سکتی ہیں مگر حدود کو پہچانتے<br />

ہوئے‘‘۔<br />

شازیہ ایک اچھا مشورہ دیتی ہیں :’’ ذرا یاد کرنے<br />

کی کوشش کریں کہ نوجوانی میں آپ کوخود<br />

نئی چیزیں آزمانے کی کتنی سخت خواہش ہوتی<br />

تھی۔ اور اگر آپ کے والدین انکار کر دیتے تو آپ کا<br />

ردِعمل کیا ہوتا تھا۔ اگر بچوں کوہمہ وقت مناہی<br />

سے ٹکرانا پڑے توانہیں اور بھی زیادہ تجسس<br />

ہوتا ہے‘‘۔<br />

اہم مقابلہ کا چناؤ کریں<br />

’’ انسان کو اپنی جڑوں اور ڈینش تہذیب و ثقافت<br />

دونوں کا احترام کرنا چاہئے ۔ انسان کی کوئی<br />

حیثیت نہیں ہے اگر وہ اپنی اصلیت اور جڑوں کو<br />

بھول جاتا ہے۔بندے کو وہ بن کے رہنا چاہئے کہ جو<br />

کچھ وہ ہے اس کو دوسرا انسان نہیں بن کے رہنا<br />

چاہئے ، لیکن ان دونوں چیزوں کے باہمی آمیزہ سے<br />

بہت اچھا نتیجہ حاصل ہو سکتا ہے۔ کبھی کبھار<br />

ہمیں یہ مقابلہ اور جد و جہد کرنی پڑتی ہے ۔زندگی<br />

میں کچھ چھوٹے اور کچھ بڑے مقابلے ہوتے ہیں۔ بات<br />

یہ ہے کہ آپ اس مقابلہ کا چناؤ کریں جو سب سے<br />

اہم ہو‘‘۔<br />

شازیہ کے اہم مقابلوں میں سے ایک یہ ہے کہ وہ اپنی<br />

بیٹیوں کو اچھی تعلیم کے حصول کے لئے تیار کرے<br />

اور ایسی جاب تالش کریں جس کے لئے وہ صبح بیدار<br />

ہونا پسند کریں:’’‏ میں اس بات کو یقینی بنانا چاہتی<br />

ہوں کہ میری بیٹیاں اپنے پاؤں پہ کھڑی ہو جائیں۔ وہ<br />

خود مختار ہوں اور مرد کے سہارے کی محتاجی کے<br />

بغیر اپنی زندگی بسر کریں۔انہیں معلوم ہونا چاہئیے<br />

کہ کچھ نیاآزمانا اچھا ہے مگر اپنی جڑوں سے بھی<br />

جڑ کے رہنا چاہئے‘‘۔<br />

Foto: Jeppe Carlsen<br />

کل قتی رول ماڈل باہمی بات چیت اہم ہے<br />

8 مائیں اور بیٹیاں-‏ دو تہذیبوں کے درمیان مائیں اور بیٹیاں-‏ دو تہذیبوں کے درمیان 9


مونا کی دنیا<br />

ڈراؤنے خواب اورمعجزے<br />

ایک عام بدھ وار کے دن کوئی بھی ڈنمارک میں<br />

ایسے لرزا دینے والے خوفناک خواب کا تصور بھی<br />

نہیں کر سکتا جس کا تجربہ مونا الموزجن ذیفاالله<br />

Mouna El-Mouzajan Deifallah کو ہوا،‏ اوروہ<br />

اس خواب میں سےگزریں اور جانبر ہوئیں۔ یہ سمجھنا<br />

مشکل ہے کہ وہ - دمکتی ہوئی،‏ اور مسکراتی ہوئی<br />

مضبوط عورت - یہ سب بتا رہی ہیں۔<br />

مونا لبنان میں پیدا ہوئیں اور وہ چھ بہن بھائیوں میں<br />

سب سے بڑی تھیں اور انہی کے ساتھ پلی بڑھی<br />

تھیں۔ان کا کنبہ فلسطینی پناہ گزین تھا اورپناہ گزین<br />

کیمپ سے باہر راہئش پذیر تھا۔’’واہں تنہائی اور<br />

غیریت کا احساس چھایارہتاتھا۔ہر وقت یہ دھڑکا<br />

لگا رہتا تھا کہ پڑوسی ہماری طرف اشارہ کرکے<br />

کہیں گے کہ واہں ایک فلسطینی رہتا ہے‘‘‏ وہ بتاتی<br />

ہیں۔ ‏’’میرے والددوسروں کے ساتھ ربط ضبط سے<br />

کتراتے تھے۔ہمیں دوست بنانے یا کسی کے اہں جانے<br />

کی اجازت نہ تھی۔‘‘‏<br />

بچپن الگ تھلگ رہنے جنگ اورہجرت نے تشکیل<br />

دیا۔جب مونا‎15‎سال کی تھیں تو ان کا خاندن ملک<br />

چھوڑ کے-‏ براستہ شام،‏ پولینڈ اور جرمنی-‏ کوپن ہیگن<br />

ڈنمارک آ گیا ۔<br />

ایک جیل سے دوسری تک<br />

لبنان میں موناکو ایک لبنانی نو جوان سے محبت ہو<br />

گئی۔ بعد میں ان کی منگنی ہوگئی اور اس نوجوان<br />

نے کنبے کی ڈنمارک آنے میں امداد کی ۔ ڈنمارک<br />

میں آنے کے ایک سال بعد مونا اور اس نوجوان کی<br />

شادی ہو گئی۔<br />

’’ شروع ہی سے ہمارے درمیان مسائل تھے‘‘‏ مونا بتاتی<br />

ہیں،‏ جو اپنی فیملی سے الگ ہو کر ویسٹر برو کوپن<br />

ہیگن میں ایک چھوٹے سے فلیٹ میں شفٹ ہوگئے<br />

تھے۔’’‏ میرے لئے ڈنمارک آنا اچھا تھا۔ اچانک میرا<br />

لوگوں سے تعلق واسطہ بن گیااور اس بات نے میری<br />

سوچ کو کافی بدل ڈاال۔جذباتی طور پہ میں اُس سے<br />

الگ اُگ گئی تھی۔ مجھے سکول جانے کی اجازت<br />

نہ تھی،‏ زبان نہ سیکھ سکتی تھی ، اورکوئی تعلیم<br />

حاصل نہ کر سکتی تھی۔وہ شروع ہی سے مار کُ‏ ٹائی<br />

کرنے واال تھا۔ میرے خاندان کومار کُ‏ ٹائی کا کوئی<br />

علم نہ تھا،‏ اور جب وہ ملنے آتے تھے تو میں پردہ ڈال<br />

دیتی تھی۔‘‘‏<br />

آنے والے سالوں میں مونااور اس کے خاوند کے اہں<br />

تین بچے پیدا ہوئے ، دو لڑکیا ںاور ایک لڑکا۔ اِن کا<br />

واحدمقصدبچوں کو محفوظ رکھنا تھا۔ ’’ تا کہ اُنہیں<br />

تشّ‏ دد اور مار کُ‏ ٹائی کا تجربہ نہ ہو،‏ مگر یہ آسان نہ تھا<br />

اور میں نے خود کو تنِ‏ تنہا محسوس کیا۔‘‘‏<br />

جس دن مونا کو ڈینش شہریت ملی انہیں نظر آ گیا<br />

کہ بیل منڈھے نہیں چڑھنے والی ۔’’میں بڑے فخریہ<br />

انداز میں پاسپورٹ لے کے باہر آئی اوراپنے شوہر کو<br />

دکھایا۔ اس نے سڑک کے بیچ میری پٹائی کر دی۔<br />

اس نے کہا-‏ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ تم ڈینش<br />

ہو گئی ہو ، میں تمہیں مارنے سے باز نہیں آؤں گا،‏<br />

اور تم کچھ بھی نہیں کر سکتی ہو۔‘‘‏<br />

دو سال کے عرصہ میں یہ جوڑا کبھی علی ٰ حدگی<br />

میں اور کبھی اکٹھا راہ۔ ’’ میں نے اسے بتا یا کہ میں<br />

بچوں کے ساتھ کھیلنے والے کمرے میں ہوں،‏ جبکہ<br />

در حقیقت میں عورتوں کے سکول میں تھی ، جہاں<br />

میں نے زبان سیکھی،‏ توانائی اور خود اعتمادی پائی۔<br />

اُس نے مجھ سے کہا،‏ تم خوبصورت نہیں ہوتم کچھ<br />

بھی نہیں ہو۔ میں نے اکثر خود کُ‏ شی کے بارے میں<br />

سوچا ۔‘‘‏<br />

آخر میں مونا نے کہا بس اب ختم۔ ’’ میں اس طرح<br />

سے جاری نہیں رکھ سکتی تھی۔میرے بچے بڑے ہو<br />

رہے تھے۔ وہ میر ی عزّت واحترام،‏ کرنا چھوڑ دیں گے<br />

‏-اورمیں جیسی ان کی تربیت کی خواش مند ہوں<br />

بچے وہ حاصل نہ کر پائیں گے۔‘‘‏<br />

طالق کا معاملہ نہائت اندوہناک تھا۔ ‏’’میر ے ارد<br />

گرد کسی کی بھی طالق نہیں ہوئی تھی۔ میں ایک<br />

اچھُ‏ وت بن کے رہ گئی،‏ مجھے سڑک کے بیچ پیٹا گیا،‏<br />

مجھ پہ تھوکا گیا۔ بچوں کو بتا یا گیا کہ ان کی ماں<br />

فاحشہ اور جسم فروش ہے۔‘‘‏<br />

‏’’میری زندگی میں اہم ترین میرے بچے تھے،نمبر<br />

دوکہ میں معامالت سے کیونکرکامیابی سے نمٹتی<br />

ہوں،‏ نمبر تین کہ میں ایک بہتر زندگی پاؤں۔‘‘‏ مونا<br />

نے اپنا طریقِ‏ زندگی یکسر بدل ڈاال۔ انہوں نے بچوں<br />

کے ساتھ ایک اپنا فلیٹ لے لیا،‏ ڈرایئونگ الئسنس<br />

لیا اور گاڑی خریدی اور ایک جز وقتی کام ڈھونڈھ<br />

لیا سہیلوں کے ساتھ باہر جاتی تھیں۔’’اُن کے نزدیک<br />

میں اصلی ڈینش تھی،‏ میں معاشرہ میں گھل مل کے<br />

شامل ہو گئی،‏ مترجم کے طور پر روزگار کرلیااور<br />

اپنی مرضی سے باہر جاتی تھیں۔‘‘‏<br />

نقصان،‏ آنسو اور کامیابی<br />

سابقہ شوہر نے پھر سے شادی کر لی،‏ اور مونا نے اپنے<br />

اور بچوں کے لئے اچھی زندگی مرتب کر لی۔ جب<br />

سابقہ شوہر جیل میں گیا تو مونا میں اتنی استطاعت<br />

تھی کہ وہ اس کی مدد کرتی اس کے واسطے<br />

ایڈوکیٹ کا بندوبست کیا تا کہ بچے اور اُس کی<br />

’’ اس بات کا احترام کریں کہ آپ کی بیٹی بھی ڈینش<br />

تہذیب و ثقافت کا حصّ‏ ہ ہے۔دونوں تہذیبوں کی سمجھ<br />

بوجھ کو ثابت کریں اوران دونوں کی اچھی خصوصیات و<br />

اقدار کو اپنائیں۔‘‘‏<br />

تربیت و پرورش الگ الگ طریقہ سے کی جائے ۔ مگر<br />

ایسا مذہب کی وجہ سے نہیں ہے۔‘‘‏<br />

مونا نے پیٹھ پیچھے باتوں،‏ گندی عورت اور بری ماں<br />

ہونے جیسے الزامات کو اپنے جسم پر جھیال ہے۔<br />

ڈنمارک میں زندگی مختلف ہے-مگروہ صرف روایات<br />

کی مخالفت کرتی ہیں نہ کہ مذ ہب کی:’’‏ ڈنمارک<br />

میں ہم نے سیکھا ہے کہ ہم عورت کی حیثیت<br />

سے مضبوط ہیں،‏ اس کی بنا معاشی خود مختاری<br />

اوربحفاظت ہوناہیں۔ ہمیں تسلیم کیا جاتا ہے ‏،اور<br />

طالق کو قبول کیا جاتاہے۔<br />

’’ عورت اور ماں کی حیثیت سے ایک عورت دوطرفہ<br />

دباؤ کے شکنجہ میں جکڑی ہے-‏ خاندان،‏ خاوند،‏<br />

روایات اورمذہب کے ساتھ تعلقات۔ کچھ چیزیں<br />

یوں ہوتی ہیں جو مردوں کے لئے سمجھنا مشکل<br />

ہیں-‏ خصوصی طور پر جب کہ وہ معاشرہ میں گھل<br />

مل کر شامل نہ ہوئے ہوں۔ لیکن کچھ ماؤں کے<br />

لئے بھی غلط اور صحیح کے مابین تمیز کرنامشکل<br />

ہوجاتا ہے۔اہم ترین بات تو یہ ہے کہ مذہب کے<br />

ناجائز استعمال اور غلط سمجھ بوجھ کو لڑکیوں کی<br />

جدا گانہ انداز سے تربیت کے جواز کے طور پہ نہ برتا<br />

جائے - تاکہ مثالً‏ وہ اعلی ٰ تعلیم نہ حاصل کر پائیں،‘‘‏<br />

مونا تجویز کرتی ہیں۔<br />

انسان غلطیوںسے سیکھتا ہے<br />

ایمانداری،‏ اعتماداور باہمی بھروسہ ماں بیٹی کے<br />

رشتے اور تعلق کی کنجی ہے۔مونا کہتی ہیں’’میں<br />

بھی کبھی جوان تھی اور مجھ سے بھی غلطیاں سرزد<br />

ہوئی تھیں۔انسان اپنی غلطیوں سے سیکھتا ہے۔ بطور<br />

ماں ہمیشہ اس بات کویاد رکھنا چاہئے-‏ اور یہ بات<br />

ہم دیگر لسّ‏ انی،تہذیبی ورثہ والی عورتیں اکثر بھول<br />

جاتی ہیں۔‘‘‏<br />

Mouna<br />

El-Mouzajan<br />

Deifallah<br />

عمر:‏‎38‎سال<br />

بچے:‏ ‎6‎بچے<br />

‏﴿‏‎3‎لڑکے اور‎3‎لڑکیاں﴾‏<br />

راہئش:‏<br />

گلید ساکس Gladsaxe<br />

پسِ‏ منظر:‏ فلسطینی<br />

پیدائش کا ملک:‏ لبنان،‏<br />

ڈنمارک 15 سال کی عمر<br />

میں آئیں۔<br />

پیشہ ورانہ مصروفیت:‏<br />

ثقافتی معلومات بہم<br />

پہنچانے والی ، مترجم،‏<br />

پراجیکٹ کی معاون اہل<br />

کار اور کام شروع<br />

کروانے والی۔<br />

انسان کو احترام کرنا چاہئے کہ اسکی بیٹی بھی<br />

ڈینش تہذیب و ثقافت کا حصّ‏ ہ ہے۔دونوں تہذیبوں<br />

کی اچھی خصوصیات کو اپنا لیں اور یہ ثابت کریں<br />

کہ آپ دونوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں‘‘‏ مونا<br />

کہتی ہیں۔یوں وضاحت کرنا آسان ہو جاتا ہے کہ<br />

کسی بات کی اجازت کیوں ہے اور کوئی بات کیوں<br />

منع ہے۔<br />

یہ الزم ہے کہ آپ نوجوان اوالد کا تحفظ کریں۔ لیکن<br />

اگر انسان سے غلطی سرزد ہو جاتی ہے تو دنیاکا<br />

خاتمہ نہیں ہو جاتا‘‘‏ مونا بات ختم کرتے ہوئے<br />

کہتی ہیں۔<br />

مونا کے<br />

‎3‎مفید مشورے<br />

• ‏جھوٹ سے گریز کریں-یہ باہمی اعتماد<br />

کا بہترین رستہ ہے۔<br />

• ‏اپنی اورڈینش تہذیب و ثقافتوں کا<br />

علم اورادرک حاصل کریں،تا کہ آپ<br />

احترام کے ساتھ حدود کا تعین کر<br />

سکیں اور ان کی وضاحت بھی کر<br />

سکیں۔<br />

• ‏تہذیب وثقافتوں کے مابین مشترک<br />

اقدار کو تسلیم کریںمثالًبہت سی<br />

ڈینش قدریں اسالم کے بھی بنیادی<br />

ستون ہیں:ایمان داری،‏ دوسروں کا<br />

دھیان رکھنا،اور مساوات۔<br />

Foto: Stillleben<br />

مونا کی زندگی بہت<br />

سارے واقعات سے عبارت<br />

ہے،اور اپنی‎38‎سالہ زندگی<br />

میں بہت سی زندگانیوں<br />

سے جانبر ہوئی ہیں۔ان کی<br />

کہانی میں ڈراؤنے خواب اور<br />

معجزے ھاتھ میں ھاتھ ڈالے<br />

دکھائی دیتے ہیں،‏ جنہوں<br />

نے انہیں مضبوط،‏ خود<br />

مختار عورت بنا دیا۔وہ‎2‎ سال<br />

تا‎21‎سال کے چھ بچوں کی<br />

ماں ہیں۔<br />

فلم جس سے انسان سیکھ سکتا ھے:‏<br />

Andre venner<br />

Andre Venner نامی فلم دو کرداروں Rasmusاور<br />

ہے اورNinos متعلق ہے ۔ Rasmusڈینش Ninosکے<br />

غیر ملکی ہے اور دوسری نسل سے تعلق رکھتا ہے۔<br />

دونوں لڑکے یہ نہیں سمجھتے کہ ان دونوںکی جدا<br />

گانہ ثقافتیں کوئی مسئلہ ہیں۔مگر انہیں دوسروں<br />

کے جانب سے تعصب اورحدبندی کا سامنا کرنا<br />

پڑتا ہے۔فلم دوستی اور تعصب کے گرد گھومتی<br />

ہے۔ مگر یہ غلطیوں کا احاطہ بھی کرتی ہے،جن سے<br />

انسان سیکھتا ہے اور دوسری بار معامالت کو کسی<br />

اور طرح سے طے کرتا ہے۔<br />

آپ الئبریری سے یہ فلم مستعار کر سکتے ہیں:‏ اس<br />

فلم کا دورانیہ‎47‎ منٹ ہے اور یہ ڈینش ، عربی،‏ اور<br />

ترکی زبانوں میں مل سکتی ہے۔<br />

Andre Venner,Danmark 2004. Instruktør<br />

نئی بیوی اس سے مالقات کر پائیں۔ایڈوکیٹ کے<br />

مشورے پرسابقہ شوہر نے بچوں کی اجتماعی تحویل<br />

حاصل کر لی تا کہ وہ ڈنمارک سے ملک بدر کرکے<br />

لبنان بھیجا جانے سے بچ سکے۔<br />

جب وہ جیل سے باہر آیا تو اپنے خاندان سے ملنے<br />

لبنان جانا چاہتا تھا،‏ عمومی طور پہ تو سارے بچے ہمراہ<br />

لے جانے کی اُسے اجازت نہ تھی،‏ اب چونکہ ان کے<br />

تعلقات کی نوعیت بدل چکی تھی اس نے مونا کی<br />

منت سماجت کی اور اسے وضاحت کی کہ اب<br />

حاالت اور ہیں-‏ مونا نے اس پہ بھروسہ کرلیا۔<br />

مونا کا بدترین خوف حقیقت کا روپ دھارگیا۔ سابقہ<br />

شوہر نے بچوں کو اغوا کر لیا،‏ اور اگال سال ایک نہ<br />

ختم ہونے واالبھیانک خواب بن گیا۔ مونا نے بچوں<br />

کی واپسی کیلئے ایک تنہااورطویل جد و جہد کا<br />

آغاز کردیا۔ہر جگہ سے مشورہ اور مدد کے حصول<br />

کی سعی کی۔ رقم جمع کرنے کے لئے دن رات ان<br />

تھک کام کیا۔ جن لوگوں نے مدد کا وعدہ کیا تھا<br />

انہوں نے دھوکا دیا اور انہیں بے جا استعمال کیا۔<br />

بہت آنسوبہانے اور مسائل کا شکار ہونے کے بعد<br />

مونا نے شام جانے کا خطرہ مول لے لیا۔ بہت سے<br />

خطرناک مرحلوں اور دشوارگذر گاہوں سے ہوتے<br />

ہوئے وہ بچوں کو لبنان النے میں کامیاب ہو گئیں اور<br />

واہں سے اپنے ہمراہ ڈنمارک لے آیئں۔<br />

روایات اور مذ ہب ایک نہیں<br />

آج مونا پھر سے شادی شدہ ہیں اور ان کے اہں مزید<br />

تین بچے پیدا ہوئے ہیں۔اب ان کے اہں پیارے پیارے<br />

چھ بچوں کاگروہ ہے۔انہوں نے بہت سال مترجم<br />

اورثقافتی معلومات بہم پہنچانے والی کے طور پہ کام<br />

کیا ہے۔اورحالیہ طور پہ دیگر لسّ‏ انی ‏،تہذیبی پسِ‏<br />

منظر والی عورتوں کے پراجیکٹ بنانے والی اور کام<br />

کو شروع کروانے والی کی حیثیت سے بر سرِ‏ روزگار<br />

ہیں۔ جب وہ کام پہ ہوتی ہیں تو ان کی مالقات<br />

اپنے جیسے حاالت کا شکار،‏ ویسی ہی کہانی والی<br />

عورتوں سے ہوتی ہے۔ اس ضمن میں وہ اپنے گراں قدر<br />

تجربات سے رجوع کرتی ہیں۔<br />

مونا بار بار اس بات کو واضع اور خط کشدہ کرتی<br />

ہیں کہ انسان کو مذ ہب اور روایات کے مابین تفریق<br />

کرنی چاہئے:’’‏ بدترین نتیجہ یہ ہے کہ انسان مذہب<br />

کے بارے میں ایک غلط تاثر قائم کر لیتا ہے،‏ وجہ یہ<br />

ہوتی ہے کہ روایات اورمذ ہب کو گڈ مڈکر دیا جاتا<br />

ہے۔ روایات کا مطلب یہ ہے کہ عورتوں اور مردوں<br />

کے لئے جداگانہ اصول ہیں،‏ لڑکیوں اور لڑکوں کی<br />

;Jannik Splidsboel. Spilletid 47min<br />

sprog dansk, arabisk, tyrkisk<br />

10 مائیں اور بیٹیاں-‏ دو تہذیبوں کے درمیان مائیں اور بیٹیاں-‏ دو تہذیبوں کے درمیان 11


Kadija<br />

Y. H. Abdi<br />

عمر:‏‎51‎سال<br />

بچے ‏:تین بچے<br />

‏﴿دولڑکیاں اور ایک<br />

لڑکا﴾‏<br />

راہئش:نیرے بروکوپن<br />

ہیگن<br />

Nørrebro i København<br />

پسِ‏ منظر:‏ صومالی<br />

پیدائش کا<br />

ملک:صومالیہ ،<br />

ڈنمارک 35 سال کی<br />

عمر میں آئیں۔<br />

پیشہ ورانہ<br />

مصروفیت:سوشل و<br />

صحت کی معاون ،<br />

سکول کی مجلسِ‏ عاملہ<br />

کی رکن<br />

Zezils verden نامی فلم ڈینش Cecilieاور اس<br />

کی فلسطینی دوستوںTanjaاور Miaکے بارے میں<br />

ہے۔Cecilieدوستی میں رنگی جاتی ہے اور وہ بھی<br />

اپنی دوست کی طرح مسلمان ہونا چاہتی ہے۔فلم<br />

الٹی اِنٹگریشن کی آئینہ داری کرتی ہے،‏ یہ دوستی<br />

کی عکاسی کرتی ہے اور دوسروں کا اپنے سے زیادہ<br />

دھیان رکھنے کو فلم بند کیا گیا ہے ۔ یہ کہانی انٹر<br />

نیٹ کے استعمال کے بارے میں ہےwww.arto.dk<br />

جہاں لڑکیاں آپس میں چیٹ کرتی ہیں۔<br />

فلم الئبریری سے مستعار کی جا سکتی ہے:فلم کا<br />

دورانیہ ‎34‎منٹ ہے اور یہ ڈینش،عربی اور ترکی<br />

زبانوں میں مل سکتی ہے۔<br />

Zezils verden, Danmark, 2005<br />

Instruktør Cathrine M. Asmussen.<br />

Spilletid 34 min<br />

Sprog: dansk, arabisk, tyrkisk<br />

متحرک ہوں<br />

متعدد مواقع استعمال کریں<br />

خدیجہ وائی ۔ایچ۔ عبدی نے ڈینش زبان‎5‎ سال میں سیکھی ۔اس کے بعد تعلیم پائی اور روزگار<br />

حاصل کیا۔ سکول کی مجلس عاملہ کی رکن بن گئیںاور ایک ایسوسی ایشن بھی منظم<br />

کی۔ انہوں نے‎10‎ سال اپنی بیمارماں کی تیمارداری کی اور‎45‎ سال کی عمر میں خدیجہ نے<br />

اپنی زندگی کا ایک نیا باب شروع کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ بچوں کے لئے ان کا مثالی تصویر<br />

ہونا ضروری ہے۔<br />

جب خدیجہ وائی ۔ایچ۔ عبدی ‎1992‎میں ڈنمارک<br />

آئیں تو یہ پہلی دفعہ نہ تھی کہ وہ یہاں آئیں ۔ ان کی<br />

بہن ‎45‎سال پہلے یہاں آئیں تھیں،‏ اور خدیجہ انہیں<br />

ملنے کے لئے کئی بار آ چکی تھیں۔<br />

لیکن اب ہر شے نرالی تھی‎1992‎کے دوران صومالیہ<br />

میں جنگ برپا تھی،‏ اور خدیجہ ایک پناہ گزین کے<br />

طور پر یہاں آئی تھیں۔اس وقت وہ آخری مرحلہ کی<br />

حاملہ تھیں اور ا ن کا بیٹااوروالدین ہمراہ تھے۔ انہوں<br />

نے اپنی بڑی بیٹی کو ایک مدت سے نہیں دیکھا<br />

تھا کیونکہ کئی سال پہلے صومالیہ سے باہر آ گئی<br />

تھیںاور اپنی فیملی کے ساتھ اور ملکوں کے عالوہ<br />

کینیڈا میں مقیم رہیں ۔ بیٹی ا ب کوپن ہیگن میں آ<br />

گئی ہی ہیں ۔<br />

خدیجہ کے ڈنمارک میں آنے کے تھوڑے عرصہ بعد<br />

انکی بہن فوت ہوگئیں،‏ اور ماں سخت بیمار پڑ گئیں۔<br />

یہ ایک کڑا وقت تھا،‏ جب غیر ملک میں ہونے اور<br />

زبان نہ جاننے کا احساس انہیں گھیرے رہتا تھا۔انہیں<br />

خاندان،‏ بیماری اور ڈنمارک میں نئی زندگی کے بارے<br />

میں فکریں لگی رہتی تھیں۔بیماری نے ماں کو معذور<br />

کرڈاال تھا،‏ وہ خود سے کچھ بھی نہیں کر سکتی<br />

تھیں۔<br />

خوش قسمتی سے خدیجہ اور اسکے والدین کونیرے<br />

برو میں ایک ہی عمارت میں مکان مل گئے ۔ اگلے<br />

دس سال خدیجہ نے بال کسی امداد کے خاموشی<br />

سے اپنی ماں کی دیکھ بھا ل کرتی،‏ اور اپنے بچوں<br />

کو سنبھالتی رہیں ۔اس دوران وہ پیسے کمانے کے<br />

لئے کبھی کبھار کام کرنے کی کوشش بھی کرتی<br />

رہی تھیں،‏ لیکن انہیں بار بار رد کر دیا جاتا۔’’‏ ہر<br />

ممکنہ جگہ پر میں روزگارکے حصول کے لئے کوشش<br />

کرتی تھیں مگر یہ ناممکن تھا-‏ وہ کہتے تھے کہ اس<br />

کی وجہ زبان یا سکارف اوڑھنا ہے یا پھر پتلون پہننی<br />

چاہیئے۔‘‘‏<br />

اگست 2003 میں ان کی ماں فوت ہو گئیں،‏ ان کی<br />

زندگی کے آخری تین مہینوں میں خدیجہ کمیون<br />

کی گھر کی امداد کے تحت اپنی ماں کی دیکھ<br />

بھال کے لئے پرایئویٹ خدمتگار کے طور پر مامور<br />

رہیں۔ماں کی فوتیدگی کے بعد خدیجہ کی زندگی<br />

کا اک نیا باب شروع ہوا۔<br />

نئی زندگی<br />

‏’’سو میں نے سوچا:اب میں کیا کروں؟‘‘خدیجہ بتا تی<br />

ہیں۔ ‏’’میں سب سے پہلے توزبان سیکھنا چاہتی تھی<br />

تا کہ اپنی گذر اوقات کرسکوں۔اس دواران یہ قوانین<br />

بھی الگو ہو چکے تھے کہ ڈنمارک میں آنے کے<br />

تین سال کے بعد آپ کومفت زبان سیکھنے کا حق<br />

حاصل نہیں راہ تھا ۔مگر حکام سمجھتے تھے کہ میں<br />

اپنی ماں کی تیمارداری کرتی رہی تھی ‏،تو مجھے<br />

ڈینش زبان کے درجہ‎3‎ کاکم مدتی زور دار پڑھائی کا<br />

کورس پڑھنے کی اجازت دے دی گئی۔‘‘‏<br />

زبان کا مسئلہ حل ہونے کے بعدخدیجہ کی خواہش<br />

تھی کہ وہ کوئی تعلیم حاصل کرے۔ انتخاب بڑا<br />

آسان تھا۔ ‏’’چونکہ مجھے دیکھ بھال اور نگہداشت<br />

کا تجربہ تھا تو میں نے سوچا کہ میں اسے استعمال<br />

میں الؤں گی۔ سو میں نے سوشل-‏ صحت کی دیکھ<br />

بھال کے معاون کی تعلیم کے حصول کا چناؤ کیا۔<br />

باوجودیکہ میں صومالیہ میں ‎12‎سال سکول گئی تھی<br />

مگر میرے پاس مطالعہ فطرت اور انگریزی کی اسناد<br />

نہ تھیں،‏ اس لئےSOSUسُ‏ و سُ‏ و سکول میں داخلہ سے<br />

پہلے مجھے کچھ اضافی کورسز کرنے پڑے تھے۔‘‘‏<br />

آج خدیجہ ایک گھریلو خدمتگاروں کو جز وقتی<br />

روزگار مہیا کرنے والے ادارہ میں مالزمت کر رہی<br />

ہیں۔اور یوں وہ اکیلی ماں ہوتے ہوئے پورے وقت کی<br />

مالزمت کے ساتھ اپنے روزمرّہ کی بسر اوقات کر<br />

رہی ہیں۔ اس کے ساتھ وہ اوقاتِ‏ کار اور معشت کو<br />

چال رہی ہیں اور اپنے بوڑھے بیمار باپ کی نگہداشت<br />

بھی کر رہی ہیں،‏ جو خود اپنی دیکھ بھا ل نہیں کر<br />

سکتے۔<br />

مواقع،‏ آزادی اور تفکرات<br />

خدیجہ رکاوٹوں اورمحدود ہونے کی بجائے مواقع اور<br />

ممکنات کو دیکھتی ہیں-‏ اور شکوہ شکائت کرنے<br />

کی بجائے ہنستی مسکراتی ہیں۔ ڈنمارک میں<br />

ڈھیروں مواقع و ممکنات ہیں۔اس کو وہ ہردو طرح سے<br />

لیتی ہیں یعنی آزادی کے طور پہ اور ان مواقع کو زیرِ‏<br />

استعمال النا فرض بھی سمجھتی ہیں ۔’’‏ ڈنمارک میں<br />

آپ کو متحرک رہنا ہوتا ہے۔ یوں آپ کوبہتر سمجھ<br />

آتی ہے کہ سکول میں کیا ہوتا ہے،‏ اوراس ملک میں<br />

چیزیں کیسے کام کرتی ہیں۔ اگر آپ متحرک نہ ہوں<br />

تو آپ وقت کے ساتھ نہیں رہ سکیں گی۔<br />

اسی لئے خدیجہ نے تین سال قبل سکول کی مجلسِ‏<br />

عاملہ میں بیٹھنے کے لئے اہں کی۔ ‏’’یہ معامالت میں<br />

شرکت کا اچھا طریقہ ہے ‏،اوریوں بچوں کے حقوق<br />

کے ضمن میں آگاہ رہنے اورگفت و شنید کی آسانی<br />

رہتی ہے۔‘‘‏ وہ تھوڑا ہنستی ہیں اور بتاتی ہیں:’’‏ بہت<br />

لوگ مجھے پوچھتے ہیں : آپ اتنے معامالت میں<br />

کیوں شامل رہتی ہیں-‏ میٹنگز،‏ کورسز،‏ دعوتیں،‏<br />

کلب اورانتظامی کمیٹیاں-‏ اور میں کہتی ہوں:‏ جب<br />

آپ خود معلومات حا صل کرتی ہیں تو آپ کو ان<br />

کی درستی کا یقین ہوتا ہے۔استادوں سے مل جل کر<br />

آپ کی جان پہچان پیدا ہوتی ہے اور آپ کے روابط<br />

بنتے ہیں۔‘‘‏<br />

’’ میں متحرک رہنا چاہتی ہوں اور اپنے بچوں کو بھی<br />

دکھانا چاہتی ہوں کہ وہ بھی بازارِ‏ روزگار میں،‏ فارغ<br />

اوقات اور سکول میں متحرک رہیں۔وہ میری طرف<br />

دیکھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ ٹھیک ہے۔میں نے<br />

جد و جہد کی ہے اور آگے بڑھی ہوں۔آ پ کا مثا لی<br />

تصویر بننا ضروری ہے۔ یوں بچے سوچتے ہیں کہ وہ<br />

بھی آگے بڑھیں،‏ تعلیم اور روزگار حاصل کریں۔میں<br />

بیٹھی دیکھتی نہیں رہ سکتی،‏ یہ میرا سٹائل نہیں<br />

ہے۔ میں نئی چیزوں کو جاننا اور سمجھنا چاہتی ہوں-‏<br />

اور ضرورت مندوں کی مدد کرنا چاہتی ہوں ۔‘‘‏<br />

جب کوئی متحرک ہوتا ہے اور سرگرمیوںمیں حصّ‏ ہ<br />

لیتا ہے،‏ اور نئے علم کا حصول کرتا ہے،‏ تو وہ کم فکر<br />

مند ہوتا ہے۔بے شک ماں ہونے کے ناطے آپ بچوں<br />

کے بارے میں ہمیشہ فکر مند رہتی ہیں-اور خاص<br />

طور پر ایک ملک میں ایسی ماں کی حیثیت سے<br />

جس نے خود اس ملک میں پرورش نہ پائی ہو،‏ جس<br />

ملک میں آبائی وطن کے مقابلہ میں قوائد و ضوابط<br />

فلم جو مل کر دیکھنی چاہیئے:‏<br />

Zezils verden<br />

’’ میں نے جدو جہد کی ہے اور آگے بڑھ چکی<br />

ہوں۔ ایک مثالی تصویر بننا ضروری ہے۔‘‘‏<br />

اور طور طریقے بالکل ہی مختلف ہوں:’’‏ ڈنمارک میں<br />

بچے سو فیصد آزاد ہیں ہم ان پر ویسے نگاہ نہیں رکھ<br />

سکتے ہیں کہ جیسی ہماری عادت ہے۔یہاں بچوں پہ<br />

اتنازیادہ کنٹرول نہیں ہے جتنا صومالیہ میں تھا۔ اگر<br />

وہ کوئی درست راہ اپنالیتے ہیں اور صحیح اثر قبول<br />

کرتے ہیں تو پھر کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ لیکن اگر<br />

وہ غلط راستہ چنتے ہیں تو انہیں واپس النا مشکل<br />

ہے۔لیکن اگر آپ انہیں اچھی معلومات دیتی ہیں اور<br />

ایک اچھی مثالی تصویر بنتی ہیں توان کی کامیابی<br />

کے بڑے چانسز ہیں۔‘‘‏<br />

ممنوعہ موضوعات پر بات چیت کریں<br />

بچوں کی بھالئی کے لئے بعض اوقات اپنی روایات اور<br />

اقدارکو دبانا پڑتا ہے ۔ مثال کے طور پرجنسی زندگی<br />

کے متعلق کوئی بات ہو۔جیسا کہ خدیجہ کہتی<br />

ہیں:‏ ’’ یہ مو ضوع کبھی میری پرورش کا حصّ‏ ہ نہیں<br />

راہلہ ٰ ذ امیرے لئے اس پہ بات کر نا مشکل ہو سکتا<br />

ہے۔ لیکن یہ ضروری ہے کہ بچوں کا اس سے اچھے<br />

انداز میں تعارف کروایا جائے،‏ اور انہیں بتا یا جائے کہ<br />

جنسی معامالت انکی زندگی ، تعلیم اور روزگار پہ<br />

کیا اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔‘‘‏<br />

’’ فیملی کو اس بات کی تشویش ہو سکتی ہے<br />

کہ جب بیٹیاں نوعمری میں قدم رکھتی ہیں تو وہ<br />

کوئی غلط انتخاب کر سکتی ہیں۔ لڑکیوں کے<br />

لئے یہ مشکل ہوتا ہے کیوں کہ وہ باہر جانا چاہتی<br />

ہیں،تیراکی کرنا چاہتی ہیں،‏ سنیما جانا چاہتی<br />

ہیں،اور یہ محسوس کر سکتی ہیں کہ جیسے وہ<br />

جیل میں قید بیٹھی ہیں۔‘‘‏ مگر خدیجہ اچھی طرح<br />

آگاہ ہیں کہ ٹین ایجر لڑکیوں کوگھر کے اندر نہیں<br />

رکھا جا سکتا ہے۔ ان سے بات چیت کرنی چاہئے ،<br />

انہیں تیار کرنا چاہئے اور ان کی زندگی میں حصّ‏ ہ لینا<br />

چاہئے-اگر وہ باہر جاتی ہیں’’تو میں ان سے ٹیلی فون پر<br />

مکمل رابطہ رکھتی ہوں،‏ کہ وہ کہاں ہیں اور کیا کر<br />

رہی ہیں‘‘‏ خدیجہ کہتی ہیں۔<br />

انہیں مثبت راہ دکھائیں<br />

’’ کچھ خاندانوں کویہ ڈر رہتا ہے کہ بچے اپنی<br />

خاندانی روایات اور ثقافت فراموش کر دیں گے‘‘‏<br />

خدیجہ کہتی ہیں ‏’’مگر یہ آپ کی اپنی غلطی ہے کہ<br />

بچے خاندانی روایات اور ثقافت کوبھول جاتے ہیں۔ یہ<br />

بچوں کی غلطی نہیں ہے!‏ آپ بچوں کو اپنی روایات<br />

اور ثقافت اور کھانے پینے کے بارے میں-اپنی زبان<br />

میں-‏ بتائیں۔ان کو یہ سکھانا ضروری ہے کہ وہ کہاں<br />

سے آتے ہیں،اس کے ساتھ ہی ساتھ وہ ڈینش روایات<br />

اور ثقافت کو بھی سیکھیں۔‘‘‏<br />

خدیجہ نہیں سمجھتیں کہ بچوں کومکمل طور سے<br />

بچایا جا سکتا ہے کہ وہ کبھی کبھار ابتری و گڑ<br />

بڑاہٹ کا شکار ہوں اور منقسم محسوس کریں۔<br />

لہ ٰ ذا انہیں بتانا چاہئے کہ ڈنمارک بھی ان کا وطن<br />

ہے-‏ اور یہ بھی بتائیںکہ ان کا اپنا پسِ‏ منظر کیا ہے۔’’‏<br />

آپ انہیں سمجھائیں کہ وہ خوش نصیب ہیں۔ان کی<br />

صرف ایک نہیں بلکہ دو ثقافتیں ہیں۔ ایک نہیں بلکہ<br />

دو زبانیں ہیں۔‘‘‏<br />

خدیجہ کے<br />

‎3‎مفید مشورے<br />

• ‏بچوں پر اپنا فیصلہ تھونپنے کی<br />

بجائے،‏ ان سے پوچھیں کہ وہ کیا<br />

چاہتے ہیں۔<br />

• ‏ان سے پوچھیں کہ انہوں نے<br />

سکول میں کیا کیاہے ‏-معلومات<br />

حاصل کرنے اوربچوں کی مدد<br />

کرنے کیلئے کہ وہ بتانا یاد<br />

رکھیں۔<br />

• ‏بچوں کے سکول کے دورانیہ<br />

میں حصّ‏ ہ لیں،‏ مثال کے طور پہ<br />

میٹنگوں میں جا کر،‏ لکھشہ کیفے<br />

یا الئیبریری میں جا کر۔<br />

Foto: Stillleben<br />

12 مائیں اور بیٹیاں-‏ دو تہذیبوں کے درمیان مائیں اور بیٹیاں-‏ دو تہذیبوں کے درمیان 13


علم کی شاہراہ<br />

الئیبریری نے مجھے پار لگایا<br />

معلومات اور علم خدیجہ<br />

المحمدی کی زندگی<br />

کا اہم جزو ہیں-‏ بطور<br />

ماں،صحت کی معلومات<br />

بہم پہنچانے والی اور کام<br />

شروع کروانے والی ۔ ان کی<br />

فالسفی یہ ہے کہ انسان<br />

معلومات،وقت اوردرگزر<br />

کرنے سےبہت آگے بڑھ سکتا<br />

ہے۔ہردوصورتوں میں،جب<br />

بچوں کی زندگی میں بہترین<br />

بنیاداور حاالت مہیا کرنے ہوں<br />

اور انہیں ایک اچھا انسان<br />

بنانا ہو۔<br />

خدیجہ المحمدی کو ڈنمارک میں بحیثیت دیگر<br />

لسّ‏ انی ، تہذیبی پسِ‏ منظر کی حامل لڑکی ذاتی<br />

تجربہ ہے۔وہ منقسم دنیاؤں کے احسا س کو بہ آسانی<br />

یاد کر سکتی ہیں ایک مراکشی گھراور ایک ڈینش<br />

باہراور یہ احساس بھی کہ انسان کو اور طرح سے<br />

دیکھا جاتاہے۔سکول کے اندر میں ڈینش بننے کی<br />

کوشش کرتی تھی مگر مجھے ہمیشہ دیگر لسّ‏ انی،‏<br />

تہذیبی پسِ‏ منظر کی حامل کے طور پر لیا گیا۔ان<br />

دنوں سڑکوں پر آوازے کسے جاتے تھے اپنے وطن<br />

میں کو دفع ہو جاؤ‘‘‏ وہ بتاتی ہیں۔آج اپنے بچوں کی<br />

راہنمائی کے لئے وہ اپنا تجربہ اور رسول االله کے الفاظ<br />

اور اصول استعمال کرتی ہیں ‏-وہ بہت کچھ مطالعہ<br />

کرتی ہیں اور نئی چیزوں کوسمجھتی ہیں۔’’عقل مند<br />

استاد ہونے کے لئے بڑی تعلیم و اسناد کی ضرورت<br />

نہیں ہے‘‘‏ ان کا کہنا ہے۔<br />

علم،‏ معلومات - اور ذمہ داری<br />

‏’’یہ ضروری ہے کہ بچوں کی خود اعتمادی اونچی<br />

سطح پہ ہومثال کے طور پہ سکول میں کامیابی<br />

حاصل کرنے سے۔ اگر انہیں اپنی ہوشیاری کا تجربہ<br />

ہوتا ہے تو وہ دیگر معامالت کو بھی اچھی طرح نبھا<br />

سکتے ہیں،‏ اور یہ از حد ضروری ہے کہ والدین بچوں<br />

کی زندگی میں شریک ہوں۔‘‘‏ خدیجہ نعم البدل<br />

استاد ہونے کے ناطے اپنے تجربہ کا حوالہ دیتے ہوئے<br />

کہتی ہیں۔<br />

ذمہ داری لینا ایک پاکیزہ عمل ہے جسے خدیجہ<br />

Kadija Al<br />

Mohammadi<br />

عمر:‏‎36‎سال<br />

بچے‎3‎‏:بچے<br />

‏﴿‏‎2‎لڑکیاں اور‎1‎لڑکا﴾‏<br />

راہئش:‏<br />

سود اہؤن کوپن ہیگن<br />

nvahnebøK nvahdyS<br />

پسِ‏ منظر:مراکشی<br />

پیدائش کا<br />

ملک:مراکش،‏<br />

ڈنمارک 4 سال کی<br />

عمر میں آئیں۔<br />

پیشہ ورانہ مصروفیت:‏<br />

صحت کے بارے میں<br />

معلوما ت بہم پہنچانے<br />

والی،‏ نعم البدل استاد<br />

بہت اہم گردانتی ہیں۔ہر دو قسم کی ذمہ داریاں<br />

انسانی اور معاشرتی-‏ اور اپنی قریبی فیملی کی<br />

ذمہ داری بھی۔بچوں کو سیدھی راہ پہ ڈالناان کے<br />

معامالت میں شریک ہو کے سمجھنا،‏ ان کے روز مرّہ<br />

کے چیلنج کی سمجھ بوجھ رکھنا:’’‏ بچوں سے ان کی<br />

اوائل عمر سے بات کرنا شروع کریں تا کہ بات چیت<br />

کرنا معمول بن جائے چپقلش پہ بات کی جا سکے،‏<br />

یا جن امورکو وہ اہمیت دیتے ہیں-‏ چاہے یہ عجیب<br />

و غریب اور دور کا معاملہ لگتا ہو۔انسان کو اپنے<br />

بچوں سے بات چیت کرنا سیکھنا چاہئے اور والدین کا<br />

کردار کھوئے بغیر حدود متعین کرنی چاہیئں۔بہت<br />

سے نوجوان لوگ پھسل کے دور چلے جاتے ہیں کہ<br />

زندگی مشکل لگتی ہے اور والدین ان کے خیاالت<br />

نہیں سمجھتے۔ لگتا ہے والدین مردہ ہیں یا اہتھ پاؤں<br />

چھوڑ بیٹھے ہیں۔‘‘‏<br />

اگر انسان استفسار کرے حصولِ‏ علم ‏،اور پیش عملی<br />

کرے تو ان مسائل کے حل موجود ہیں۔ ’’ میں اپنی<br />

ماں سے تو نہیں پوچھ سکتی تھی وہ خود ڈنمارک<br />

میں نئی تھیں۔انہیں زبان اور معاشرہ کی جان کاری<br />

نہ تھی۔ مگر الئیبریری میں ایک بڑی اچھی الئیبریرین<br />

تھیں۔یہ ڈینش معاشرہ میں میرے داخلہ کا رستہ ثابت<br />

ہوا۔واہں کتابیں،‏ آواز کی کتابیںاور موسیقی تھی۔<br />

‏’’الئیبریرین مجھے بتاتی تھیں اور میری دلچسپی کے<br />

موضوعات پر مواد ڈھونڈھ کے دیتی تھیں‘‘خدیجہ<br />

بتاتی ہیں۔ ’’ اب کتب خانوں میں ثقافتی پیش کش<br />

اور لکھشہ کیفیز کا اہتمام ہوتا ہے جن میں مفت<br />

حصّ‏ ہ لیا جا سکتا ہے۔اپنی دوستوں اور ان کے بچوں<br />

کو ساتھ لے جائیں۔ ماؤں اور بچوں کے لئے کافی مواد<br />

میسر ہے‘‘‏ خدیجہ ہنستے ہوئے بتاتی ہیں۔میں ہمیشہ<br />

کہا کرتی ہوں ‏’’الئیبریری میرے بچاؤ کا سبب بنی!‘‘‏<br />

توازن برقرار رکھیں<br />

‏’’ذرائع ابالغ میں دیگر لسّ‏ انی،تہذیبی پسِ‏ منظر کے<br />

حامل لوگوں کے بارے میں جو کچھ کہا جاتا ہے<br />

نوجوان لوگ اس میں الجھے ہوتے ہیں ۔انہیں سمجھ<br />

نہیں آتی کہ یہ منفی بات ہے۔وہ اس کو اہمیت<br />

دیتے ہیں اور اپنے حقوق اور جگہ کا تقاضا کرتے ہیں<br />

۔وہ کیا چاہتے ہیں اور کیوں اس سے وہ بخوبی آگاہ<br />

ہیں۔نوجوانوں میں قوت موجود ہے۔ مگر یہ سب<br />

والدین کی راہنمائی کا بھی متقاضی ہے‘‘۔<br />

ہر لمحہ چوکس و چوکنا رہنا<br />

خدیجہ کا خیال ہےگو چیلنجزاور تفکرات کی نوعیت<br />

جداگانہ ہے مگر ڈنمارک اور مراکش میں اچھی<br />

ماں ہونے میں کوئی فرق نہیں ہے۔ہو سکتا ہے کہ<br />

مراکش کے چھوٹے قصبہ میں نشہ آور اشیا کی فکر<br />

نہ ہو یا نوجوان انٹر نیٹ پہ کسی غلط شخص سے تو<br />

چیٹ نہیں کر رہے ہیں-‏ مگر باآلخر والدین کا فریضہ<br />

ایک جیسا ہی ہوتا ہے۔<br />

’’ اگر میں اس بات کو نہیں سمجھتی کہ وہ کیا کرتے<br />

ہیں - ان کی دلچسپیاں کیا ہیں ان کے دوست کون<br />

ہیں اور ان کی زندگی کیا ہے-‏ تو انہیں احساس ہوتا<br />

ہے کہ انہیں سمجھا نہیں گیا۔اگرمیں درستی کی<br />

کوشش کروں گی تو وہ اسے سنجیدگی سے نہیں<br />

لیں گے۔والدین ہونا ایک تنی ہوئی رسی پہ چلنے کے<br />

مترادف ہے-‏ ان کی سمجھ بوجھ ہونااور نصیحت کی<br />

انگلی اٹھانے کے مابین توازن برقرار ہونا چاہئے۔‘‘‏<br />

‏’’توازن بال سے بھی زیادہ باریک ہوتاہے اور انسان کو<br />

ہمہ وقت جاگتی نگاہ رکھنی چاہئے۔ مجھے یہ سمجھ<br />

آتی ہے کہ جب انسان تھکا ہواور بچوں کی دنیا کا<br />

احاطہ نہ کر سکتا ہو-‏ بچے بڑے تیز طرّار ہوتے ہیں،‏ ان<br />

کے ساتھ ساتھ رہنے کے لئے معاشرہ کے رجحانا ت پر<br />

نظر رکھنی پڑتی ہے‘‘‏ خدیجہ کہتی ہیں۔’’‏ وہ نوجوان<br />

جن کو گھر سے کردار کی پختگی نہیں میسر ہوتی<br />

ہے،در حقیقت ان کا نیچے جھکنے کا خطرہ الحق<br />

رہتا ہے۔‘‘‏<br />

خدیجہ علم اور معلومات کوبہت اہم گردانتی<br />

ہیںاور انکی وساطت سے بچوں کی ہمراہی میں راہ<br />

جا سکتا ہے-‏ معاشرہ میں کیا ہو راہ ہے اس پہ نگاہ<br />

رکھنا والدین کے لئے انتہائی بڑی مدد ہے،‏ تبھی وہ<br />

رائے دے سکتے ہیں کہ نعم البدل کیا ہیں۔خدیجہ<br />

کے بچوں کو ڈسکو تھیک میں جانے کی اجازت<br />

کیا آپ کو معلوم ہے کہ تعلیم ...<br />

• ‏ڈنمارک میں تعلیم مکمل کرنے کے بعد غیر<br />

ملکیوں اور ڈینشوں کی تنخواہ برابر ہوتی ہے۔<br />

• ‏دیگرلسّ‏ انی ‏،تہذیبی پسِ‏ منظر کی حامل اعل ٰ ی<br />

تعلم حاصل کرنے والی لڑکیوں کی تعداد میں<br />

اضافہ ہو راہ ہے ۔<br />

• ‏دیگر لسّ‏ انی،‏ تہذیبی پسِ‏ منظر کی حامل<br />

لڑکیاں بچے پیدا کرنے سے پہلے اپنی تعلیم<br />

مکمل کرنے کی خواہش مند ہوتی ہیں۔<br />

نہیں ہے۔ مگر اس کے نعم البدل کی پیش کش ہونی<br />

چاہئے:’’جب ہم گھر میں الکحل نہیں پیتے تو باہر<br />

بھی وہ ایسی جگہوں پہ نہیں جا سکتے جہاں ایسا<br />

کیا جاتا ہو۔انہیں دوسری پارٹیوں اور سرگرمیوں میں<br />

شمولیت کی اجازت دے کر روکا جا سکتا ہے۔‘‘‏<br />

’‘ وہ نوجوان جو کھڑے جھول رہے ہوتے ہیں انہیں<br />

نعم البدل کی پیش کش نہیں کی گئی‘‘خدیجہ<br />

کہتی ہیں۔ یا د رکھیں کہ ڈینش نوعمروں کو بھی<br />

سب کچھ کرنے کی اجازت نہیں ہوتی ہے۔ ان کے<br />

والدین بھی اصول وضوابط بناتے ہیں جن کی بچوں<br />

نے پاس داری کرناہوتی ہے۔ یہ کوشش کی جاتی<br />

ہے کہ بچے اتنے مضبوط اور تگڑے ہوں کہ وہ کسی<br />

قسم کے دباؤ کو انکار کر سکیں۔ بچے آپ کی زیادہ<br />

عزت کرتے ہیں جب آپ دونوں دنیاؤں کو جانتی ہوں<br />

اور یہ وضاحت کر سکتی ہوں کہ روایت کیا ہے اور<br />

مذہب کیا ہے۔‘‘‏<br />

نوزائیدہ بچہ اور ٹین ایجر<br />

خدیجہ کا خیال ہے کہ ٹین ایجر اور نوزائیدہ بچے کی<br />

نگہداشت کیلئے والدین کا کردار اک دوجے کی<br />

یاد کرواتاہے۔نشو نما کے دونوں مدارج کا تعلق<br />

‏’’وقت،وقت،وقت ہے‘‘-‏ اور زائد ہمت و طاقت-‏ اگر<br />

بچوں کو سیدھےرستہ پر چالناہے تو یہ اہم ہے کہ ان<br />

کے ساتھ راہ جائے-’’ٹین ایج کے سالوں میں بھی۔‘‘‏<br />

جب بچے چھوٹے تھے توان کی قوتِ‏ تخیل کوابھارنے<br />

اور معاشرتی طور پہ توانا بنانے کیلئے خدیجہ کھیل<br />

کے کمرہ،‏ کھیل کود کی جگہ،‏ الئیبریری اورجنگل<br />

کو استعمال کرتی تھیں۔ ’’ اسی طرح ٹین ایجرز کی<br />

ضروریات ہیں آپ ان میں اپنے وقت کی سرمایہ<br />

• ‏دیگر لسّ‏ انی،‏ تہذیبی پسِ‏ منظر کے حامل نوعمر<br />

وںکاکہناہے کہ مستقبل میں روزگارپانے کے<br />

لئے تعلیم فیصلہ کن ہے۔<br />

• ‏دیگر لسّ‏ انی،‏ تہذیبی پسِ‏ منظر کے حامل نوعمر<br />

یہ مانتے ہیں کہ عزت اور اچھی تنخواہ پانے کے<br />

واسطے تعلیم کا حصول ایک اہم وجہ ہے۔<br />

• ‏دیگر لسّ‏ انی،‏ تہذیبی پسِ‏ منظر کے حامل نوعمر<br />

وںکو سکول سے ملنے واال گھر کا کام کرنے میں<br />

خدیجہ کے<br />

‎3‎مفید مشورے<br />

• ‏الئیبریری جائیں!‏ آپ استفسار کر<br />

سکتی ہیں،‏ اور صوتی کتابیں اور<br />

کتب مستعار کر سکتی ہیں۔جوآپ<br />

مل کر پڑھ سکتے ہیں۔اور دلچسپ<br />

فارغ اوقاتی پیش کش کے بارے میں<br />

معلومات حاصل کر سکتی ہیں۔<br />

• ‏بچوں کے سکول جانے میں آپ کی<br />

برابر کی ذمہ داری ہے۔ کوشش<br />

کریں کہ انہوں نے پوری طرح آرام<br />

کیا ہو،‏ مناسب کھانا کھائیں-‏ ان<br />

سے سکول اور گھر کے کام کے<br />

متعلق بات کریں۔<br />

• ‏اپنی بیٹی کو مختلف فارغ وقتی پیش<br />

کش کے مواقع سے استفادہ کرنے<br />

دیں۔پہلی بار آپ کی بیٹی اورآپ<br />

کی سہیلیاں اور ان کی بیٹیاں اکٹھی<br />

جائیں۔اگر آپ کو فکر ہے تو ٹریننگ<br />

کروانے والے یا متعلقہ فرد سے بات<br />

کریں-‏ بہت سی اچھی پیش کشیں<br />

صرف لڑکیوں کے لئے موجود ہیں۔<br />

’’ وہ نوجوان جن کو گھر سے کردار کی پختگی<br />

نہیں میسر ہوتی ہے،در حقیقت ان کا نیچے جھکنے<br />

کا خطرہ الحق رہتا ہے۔‘‘‏<br />

کاری کرتی ہیں،‏ اور ان کی راہنمائی کرتی ہیں‘‘‏ وہ<br />

کہتی ہیں’’اگر ان کوٹین ایج کے سالوں میں ایک<br />

توانا پہچان نہ ملی ہو تو وہ خود کو باہر محسوس<br />

کریں گے-‘‘‏<br />

جہاں تک خدیجہ کی خود اپنے اور بچوں کے بارے<br />

میں چھوٹی اور بڑی خواہشات کا تعلق ہے،‏ انہیں<br />

ذرا بھر بھی تامل نہیں:’’‏ میری یہ امید ہے کہ وہ ویسے<br />

انسان بنےرہیں گے کہ جو وہ ہیں۔ان کے اندر احساسِ‏<br />

خودی ہواور معامالت میں اپنا اثر رسوخ رکھتے ہوں۔<br />

انہیں محسوس ہو کہ وہ یہاں سے تعلق رکھتے ہیں۔<br />

اور یہ امید کرتی ہوں کہ وہ تعلیم حاصل کرکے وہ<br />

کچھ پائیں جس کی وہ تمنا رکھتے ہوں۔ خوش رہیں،‏<br />

اچھے مسلمان بنیں اور باتوں کو سمجھیں اور اچھے<br />

رویوں اور کردار کے مالک ہوں۔‘‘‏<br />

سکول کے لکھشہ کیفیز lektieér میںمدد دی<br />

جاتی ہے۔<br />

• ‏کہ تعلیم حاصل کرنے کے دوران بندے کو<br />

معاشی امداد )SU( ملتی رہتی ہے۔<br />

• ‏کہwww.ug.dk پر جا کر آپ تعلیم،‏ عملی کام<br />

کی جگہوں )praktikpladser( کے سلسلہ<br />

میں راہنمائی وغیرہ حاصل کر سکتے ہیں۔<br />

Foto: Jeppe Carlsen<br />

14 مائیں اور بیٹیاں-‏ دو تہذیبوں کے درمیان 15


مستقبل کے خواب اور تمنائیں<br />

‏’’میںا پنے بسر اوقات کے لئے تعلیم حاصل کرنا اوردولت چاہتی<br />

ہوں‘‘‏ ‎15‎سالہ Dorine۔<br />

‏’’جن بچوں کو مشکالت درپیش ہیں،‏ میں سائیکالوجسٹ بن کر ان<br />

کی مددکرنا چاہتی ہوں‘‘‏ ‎14‎سالہSeghen۔<br />

’’ میں فٹ بال اور کِ‏ ک باکسنگ کھیلنا چاہتی ہوں‘‘‏<br />

‎17‎سالہ Sabrina۔<br />

مستقبل کی خواہشات کے ضمن میں آپ<br />

کی ماںآپ کی مدد کے لئے کیا کریں ؟<br />

’’ ان کو مجھ پہ بھروسہ ہونا چاہئے کہ میں اپنی حدود کو پہچانتی<br />

ہوںاور ناجائز بات سے انکار کر سکتی‘‘‏ 17 سالہ Sabrina۔<br />

‏’’مجھے ذاتی زندگی ‏،میں زیادہ خلوت دیں اور اپنی تعلیم خود چننے کا<br />

موقع دیں‘‘‏ ‎15‎سالہAtiyo۔<br />

’’ ان کے ساتھ ہرقسم کی بات کر سکنا چاہئے‘‘‏‎17‎سالہ Khaird۔<br />

‏’’جب میںا نٹرنیٹ پہ کچھ ڈھونڈ رہی ہوں میری ماں کا ساتھ بیٹھنا<br />

کافی مدد گارثابت ہو گا ۔پھر ہم اس پہ بات چیت کر سکتی ہیں‘‘‏<br />

14 سالہ Dolly۔<br />

اگرآپ کومدد کی<br />

ضرورت ہو...‏<br />

امداد کی ضرورت پڑنے پرمختلف بہت سی جگہیں ہیں جہاںرجوع<br />

کیا جا سکتاہے۔یہ امداد مفت ہوتی ہے اور آپ کا نام صیغہ راز میں<br />

رکھا جاتا ہے،‏ مثال کے طور پر گھریلو مسائل،مار کٹائی،ڈنمارک<br />

میں رہنے کے اجازت نامہ وغیرہ کے سلسلہ میں امداد حاصل کی جا<br />

سکتی ہے۔دیگر لسّ‏ انی ‏،تہذیبی پسِ‏ منظر والی عورتوں اور کنبوں کے<br />

لئے خصوصی مقاصد کے پیشِ‏ نظر امداد فراہم کی جاتی ہے۔مشورہ<br />

اورمدد حاصل کرتے وقت یہ بھی ممکن ہے کہ آپ اپنی مادری زبان<br />

میں بات کریں،‏ آپ کو مترجم کی سہولت دستیاب ہوتی ہے،‏ مشیر<br />

اور مترجم دونوںپر زبان بندی،‏ راز داری کا فرض عائد ہوتا ہے۔<br />

عورتوں کے لئے مشاورت<br />

عورتوںکے لئے مشاورت کے بورڈ نے ملک گیر پیمانہ پر غیر ملکی ،<br />

مہاجرین اقلیتی لسّ‏ انی پسِ‏ منظر کی حامل عورتوں کے لئے ٹیلی فون<br />

پرمشاورت کا بندو بست کیا ہو ہے۔ ٹیلی فون نمبر‎09‎ 70 20 49<br />

پر مشاورت کے اوقاتِ‏ کاربروز سوموار صبح‎10‎بجے تا ‎13‎بجے اور<br />

بدھ وار کو شام ‎17‎بجے تا ‎20‎بجے تک ہیں۔<br />

LOKK لوک<br />

لوک ملکی سطح پر عورتوں کی ایک تنظیم جو عورتوں کے<br />

کرائسس سنٹروں پہ مشتمل ہے۔ اس تنظیم کی خصوصی توجہ کا<br />

محور دیگر لسّ‏ انی ، تہذیبی پسِ‏ منظر کے حامل نو عمر اور والدین<br />

ہیں،‏ انکے مسائل کے حل کے لئے لوک LOKKخصوصی پیش<br />

کش کرتی ہے:‏<br />

بیٹیوں کے روزمرّہ میں مددکے<br />

ضمن میں ماؤں کو مفید مشورے<br />

‏’’اچھے اور مشکل وقتوں میںان کا بیٹی سے اچھا تعلق ہونا چاہئے اور<br />

وہ بیٹی پہ اعتماد کریں‘‘‏‎14‎سالہ Seghen۔<br />

‏’’ان کو بچوں کی قوتِ‏ فیصلہ پہ اعتماد کرنا چاہئے اور انہیں غلطی<br />

کرنے کی آزادی ہو‘‘‏ ‎17‎سالہSabrina۔<br />

’’ ہمیشہ اپنے بچوں کی بات کو غور سے سنیں اور ان کا احترام کریں‘‘‏<br />

‎13‎سالہ Vanessa۔<br />

‏’’انہیں بچوں کی چیزوں میں دلچسپی لینی چاہئے،‏ اور وہ پوچھیں کہ<br />

کیا حال ہے،‏ اوروہ مددکر سکتی ہیں‘‘‏ ‎17‎سالہ Khaird۔<br />

‏’’انہیں بچوں کے ساتھ سکول کے بارے میںزیادہ بات چیت کرنی<br />

چاہئے ، اور انہیں hyttetur اور کھیل کے لئے دوسرے بچوں کے ہمراہ<br />

جانے کی اجازت ہونی چاہئے‘‘‏ ‎14‎سالہ Dolly۔<br />

FINFO<br />

ہربات کاجواب ڈھونڈ نکالیں<br />

WWW.finfo.dk ڈنمارک میں غیر ملکیوں کے لئے<br />

قوانین جیسے سوالوں کے جواب تالش کر سکتے ہیں۔<br />

یہاں ‎11‎مختلف زبانوں میںمعلومات مہیا کی گئی<br />

ہیں۔بشمول دیگرے یہا ں:‏ عربی،صومالی،ترکی،اور<br />

اردومیں مواد میسر ہے۔ آپ جس کمیون میں راہئش<br />

رکھتے ہیں واہں سے بھی آپ متعلقہ معلومات حاصل<br />

کر سکتے ہیں۔<br />

والدین کے لئے ٹیلی فون:‏ دیگر لسّ‏ انی تہذیبی پسِ‏ منظر کے حامل<br />

والدین اور نوعمروںکے مسائل کے بارے میں پیشہ وارانہ مشاورت<br />

دی جاتی ہے ۔یہ مشاورت لڑکے لڑکیوں کے عشق و محبت،‏<br />

سکول،پارٹیوں میں شرکت،‏ ثقافت،‏ باہمی چپقلش و آویزش وغیرہ کے<br />

بارے میں دی جاتی ہے۔ والدین کا ٹیلی فون نمبر<br />

‎70‎ہے۔ 27 03 66 کھلنے کے اوقات سوم وار‎14-12‎اور<br />

بدھ وار 22-20 بجے تک ہیں۔<br />

گھر یلو تشدد کی شکار عورتوں کے لئے اہٹ الئین:‏ جن عورتوں کو<br />

گھر میں مارکٹائی کا مسئلہ درپیش ہے ۔ان کو مدد کی ضرورت ہو<br />

توپیشہ وارانہ مشاورت کی پیش کش موجود ہے۔ اہٹ الئین دن رات<br />

چوبیس گھنٹے کھلی رہتی ہے ٹیلی فون نمبر‎82‎ 70 20 30 ہے۔<br />

نوعمروں کے لئے مشاورت،دیگر لسّ‏ انی اور تہذیبی پسِ‏ منظر والے<br />

نوعمر جو کرائسس کا شکار ہوں:خاندان میںباہمی چپقلش و ناچاکی<br />

کے سلسلہ میں پیشہ وارانہ مشاورت۔<br />

ٹیلی فون نمبر 70 27 03 06 پر نوعمروں کے لئے مشاورت کے<br />

کھلنے کے اوقات منگل وار ‎12-9‎بجے جمعرات‎22-19‎بجے<br />

Indvandrerrådgivning<br />

غیر ملکیوں کے لئے مشاورت<br />

یہ غیر ملکیوں کے لئے پرایئویٹ مشاورت ہے ۔ خاندان کی یک<br />

جائی ‏،ڈنمارک میں رہنے کے اجازت نامہ وغیرہ کیلئے ۔ اس کے عالوہ<br />

میٹنگ میںآپ اپنے ساتھ ایک شخص کو بٹھا سکتے ہیںجو آپ کے<br />

مفادات کی نگہبانی کرےbisidder۔ اس بات کی اجازت سرکاری<br />

محکموں سے میٹنگوں میں ہوتی ہے۔ ٹیلی فون نمبر‎11‎ 26 22 36<br />

پر رابطہ کریں<br />

Vejledningstjenesten<br />

غیر ملکیوں کے لئے مشاورت کی خدمت<br />

غیرملکیوں کے لئے سروس Udlændingeservice نے‎24‎ سال<br />

سے کم عمر کے نوجوانوں کے لئے جن کو یہ خدشہ ہو کہ ان کی<br />

زبردستی شادی کر دی جائے گی یا والدین اپنی مرضی سے ناپسند کی<br />

شادی طے کر دیں گے۔ ٹیلی فون نمبر‎18‎ 70 26 28 پر ہر روز<br />

9 تا‎15‎بجے تک رابطہ کیا جا سکتا ہے۔<br />

ALS RESEARCH & Umloud untd

Hooray! Your file is uploaded and ready to be published.

Saved successfully!

Ooh no, something went wrong!